بیجنگ: ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اور دلچسپ پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں چین میں روبوٹس کے درمیان پہاڑ سر کرنے کی منفرد دوڑ کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ اس مقابلے میں جدید ہیومنائیڈ روبوٹس، چار ٹانگوں والے روبوٹک ڈاگز اور دیگر خودکار مشینیں پہاڑی راستوں پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گی۔
چین کے صوبے شان ڈونگ کے شہر تائی آن میں منعقد ہونے والی پہلی ’سی ایم جی ورلڈ روبوٹ ماؤنٹ تائی کلائمبنگ چیمپئن شپ‘ کا مقصد روبوٹس کو صرف تجربہ گاہوں تک محدود رکھنے کے بجائے حقیقی اور دشوار گزار ماحول میں ان کی کارکردگی جانچنا ہے۔
ہزاروں سیڑھیاں
مقابلے کے لیے چین کے تاریخی پہاڑ ماؤنٹ تائی کا انتخاب کیا گیا ہے، جہاں ہانگ مین اسکوائر سے ژونگ تیان مین تک تقریباً 3.8 کلومیٹر طویل راستہ مقرر کیا گیا ہے۔ اس راستے میں 3 ہزار 100 سے زائد پتھریلی سیڑھیاں، دشوار گزار چڑھائیاں، تنگ راستے اور تیز موڑ شامل ہیں۔
روبوٹس کو اس راستے پر نہ صرف تیزی سے آگے بڑھنا ہوگا بلکہ انہیں اپنا توازن برقرار رکھنے، راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو پہچاننے اور بدلتی ہوئی زمینی صورتحال کے مطابق اپنی چال بھی تبدیل کرنا ہوگی۔
مقابلے میں رفتار کی دوڑ کے علاوہ خصوصی چیلنجز بھی رکھے گئے ہیں، جن میں ہیومنائیڈ روبوٹس، چار ٹانگوں والے روبوٹس، سامان اٹھا کر چلنے والے روبوٹس اور ایکسوسکیلیٹن کی مدد سے پہاڑ پر چڑھنے کے مقابلے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف زمینی حالات میں راستہ تلاش کرنے کا چیلنج بھی ہوگا۔
بارش اور پھسلن
مرکزی مقابلے سے قبل 26 اکتوبر کو کوالیفائنگ راؤنڈ کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف کمپنیوں، جامعات اور تحقیقی اداروں کی ٹیموں نے حصہ لیا۔
بارش کے باعث پتھریلی سیڑھیاں پھسلن کا شکار ہوگئیں، جس سے روبوٹس کے لیے آگے بڑھنا مزید مشکل ہوگیا۔ بعض روبوٹس راستے میں لڑکھڑاتے اور گرتے بھی دکھائی دیے، جبکہ انجینئرز اپنی مشینوں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے رہے۔
کوالیفائنگ مرحلے میں روبوٹک ڈاگز کی کارکردگی خاص طور پر توجہ کا مرکز بنی۔ ایک روبوٹک ڈاگ نے تقریباً ایک گھنٹے میں 3.8 کلومیٹر کا راستہ طے کیا، جبکہ دیگر ٹیمیں بھی اپنے روبوٹس کی رفتار اور توازن بہتر بنانے میں مصروف رہیں۔
روبوٹس راستہ کیسے تلاش کرتے ہیں؟
اس مقابلے میں حصہ لینے والے روبوٹس کو جدید کیمروں، سینسرز اور لائیڈار ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا ہے۔ یہ نظام اپنے اردگرد کے ماحول کو اسکین کرکے راستے کی رکاوٹوں، پتھروں، درختوں اور سیڑھیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
روبوٹک ڈاگز لائیڈار کی مدد سے اردگرد کے علاقے کا سہ جہتی نقشہ تیار کرتے ہیں، جس کی بنیاد پر ان کا خودکار نظام آگے بڑھنے کے لیے موزوں راستے کا انتخاب کرتا ہے۔
دوسری جانب ہیومنائیڈ روبوٹس کے لیے توازن برقرار رکھنا زیادہ مشکل ہے کیونکہ ان کا جسمانی ڈھانچہ انسانوں جیسا ہوتا ہے اور ان کے لیے ناہموار سیڑھیوں پر اپنا وزن متوازن رکھنا ایک بڑا تکنیکی چیلنج ہے۔
کچھ روبوٹس کو اضافی کیمروں اور سینسرز سے بھی لیس کیا گیا ہے، جبکہ ایک ٹیم نے ایسا نظام تیار کیا ہے جو بصری معلومات کے بجائے پاؤں کے زمین سے ٹکرانے اور جوڑوں پر پڑنے والے دباؤ کی مدد سے اپنی اگلی حرکت کا فیصلہ کرتا ہے۔
مقابلے کا مقصد
ماہرین کے مطابق ماؤنٹ تائی پر ہونے والا یہ مقابلہ محض روبوٹس کی رفتار یا پہاڑ پر چڑھنے کی صلاحیت دکھانے تک محدود نہیں بلکہ اس سے مستقبل میں روبوٹکس کے عملی استعمال کے نئے راستے بھی کھل سکتے ہیں۔
ایسے روبوٹس کو مستقبل میں پہاڑی علاقوں میں سامان پہنچانے، صنعتی مقامات کا معائنہ کرنے، دشوار گزار علاقوں کی نگرانی اور قدرتی آفات کے دوران امدادی سرگرمیوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مقابلے کے ساتھ تائی آن شہر میں روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت سے متعلق صنعتی نمائش اور تکنیکی فورم کا بھی اہتمام کیا جا رہا ہے، جس میں مختلف کمپنیوں، جامعات اور تحقیقی اداروں کو اپنی جدید ٹیکنالوجی پیش کرنے کا موقع ملے گا۔
ٹیکنالوجی کے اس منفرد مظاہرے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ روبوٹکس کی ترقی اب تجربہ گاہوں سے نکل کر حقیقی دنیا کے مشکل ترین ماحول تک پہنچ رہی ہے۔ تاہم انسانوں کی طرح غیر متوقع حالات میں محفوظ اور مکمل خودمختار انداز میں کام کرنے کے لیے روبوٹس کو ابھی مزید تجربات اور بہتری کی ضرورت ہے۔


