لندن: عمر بڑھنا ایک قدرتی عمل ہے جسے روکا نہیں جاسکتا، تاہم صحت مند طرزِ زندگی اپنا کر بڑھاپے میں بھی جسمانی اور ذہنی صحت برقرار رکھنے کے امکانات بہتر بنائے جاسکتے ہیں۔ سائنس دانوں کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مخصوص غذائی عادات، باقاعدہ ورزش اور بعض طبی ادویات جسم میں عمر بڑھنے سے وابستہ حیاتیاتی تبدیلیوں پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔
طبی جریدے نیچر میڈیسن میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق بحیرہ روم طرز کی غذا، کم چکنائی یا کم کاربوہائیڈریٹس والی متوازن خوراک اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی کے نتیجے میں ڈی این اے سے وابستہ بعض حیاتیاتی نشانات میں مثبت تبدیلیاں دیکھی گئیں، جو عمر بڑھنے کے عمل میں نسبتاً سست روی کی نشاندہی کرتی ہیں۔
تحقیق میں سائنس دانوں نے حیاتیاتی عمر کا جائزہ لیا، جو انسان کی اصل عمر کے بجائے اس کے جسمانی نظام کی کیفیت اور صحت کی حالت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس مقصد کے لیے خون میں موجود ایسے حیاتیاتی اشاریوں کا مطالعہ کیا گیا جو ڈی این اے میں ہونے والی تبدیلیوں کی بنیاد پر عمر بڑھنے کے عمل کا اندازہ لگانے میں مدد دیتے ہیں۔
عمر بڑھنے کے عمل پر اثر انداز غذائیں اور ادویات
تحقیق میں 51 مختلف طویل مدتی طبی مطالعات کے اعدادوشمار کو یکجا کیا گیا، جن میں مجموعی طور پر 3 ہزار سے زائد نمونوں کا جائزہ لیا گیا۔ سائنس دانوں نے ڈی این اے میں میتھائلیشن کی تبدیلیوں سے متعلق 16 معروف ایپی جینیٹک کلاک اور 94 اضافی حیاتیاتی اشاریوں کا تجزیہ کیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ بعض ادویات کے استعمال سے حیاتیاتی عمر کے اشاریوں میں نسبتاً زیادہ تبدیلی دیکھی گئی، جبکہ غذائی عادات اور ورزش کے اثرات مختلف اشاریوں میں زیادہ مستقل نظر آئے۔
تحقیق میں ذیابیطس کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا میٹفارمن، وزن اور ذیابیطس کے انتظام کے لیے استعمال ہونے والی دوا سیمیگلوٹائڈ اور سوزش کم کرنے والے اینٹی ٹی این ایف علاج کے اثرات بھی سامنے آئے۔ ان طریقہ ہائے علاج سے ڈی این اے کے بعض عمر سے متعلق اشاریوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
تاہم محققین نے واضح کیا کہ ان نتائج کا مطلب یہ نہیں کہ یہ ادویات صحت مند افراد کو صرف عمر بڑھنے کی رفتار کم کرنے کے لیے استعمال کرنی چاہئیں۔ بعض مطالعات میں پہلے سے بیماریوں میں مبتلا افراد شامل تھے، اس لیے ممکن ہے کہ ان تبدیلیوں کا تعلق بیماری، سوزش یا میٹابولک صحت میں بہتری سے ہو۔
غذائی سپلیمنٹس کے بارے میں کیا معلوم ہوا؟
تحقیق میں وٹامنز اور دیگر غذائی سپلیمنٹس کے حوالے سے عمر بڑھنے کے عمل کو سست کرنے کے شواہد محدود اور غیر مستقل پائے گئے۔
محققین کے مطابق اس کا مطلب یہ نہیں کہ سپلیمنٹس کا کوئی فائدہ نہیں، بلکہ مخصوص غذائی کمی یا طبی ضرورت کے شکار افراد کے لیے ان کی اہمیت ہوسکتی ہے۔ تاہم محض بڑھاپا روکنے کے دعووں کی بنیاد پر ان کا استعمال سائنسی طور پر ثابت شدہ طریقہ نہیں۔
خون کے ٹیسٹ سے انسان کی اصل عمر
ماہرین کے مطابق ایپی جینیٹک کلاک ایک ایسا تحقیقی طریقہ ہے جس کے ذریعے ڈی این اے میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لے کر جسمانی عمر اور بڑھاپے کی رفتار سے متعلق اندازے لگائے جاسکتے ہیں۔
تاہم صرف ان ٹیسٹوں کی بنیاد پر یہ طے نہیں کیا جاسکتا کہ کوئی شخص کتنی دیر تک صحت مند رہے گا یا اس کی عمر کتنی ہوگی۔ اس کے لیے مزید طویل مدتی تحقیق ضروری ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ ان حیاتیاتی اشاریوں میں تبدیلی کا حقیقی صحت، جسمانی صلاحیت اور بیماریوں کے خطرات پر کیا اثر پڑتا ہے۔
ییل یونیورسٹی کے محقق اور تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر راگھو سہگل کے مطابق حیاتیاتی اشاریوں میں تبدیلی نظر آنا اور حقیقی معنوں میں عمر بڑھنے کا عمل سست ہونا دو الگ باتیں ہیں۔ مستقبل کی تحقیق میں یہ ثابت کرنا ضروری ہوگا کہ ان تبدیلیوں سے انسان زیادہ عرصے تک صحت مند اور فعال بھی رہتا ہے یا نہیں۔
ماہرین کا مشورہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال انسانوں میں عمر بڑھنے کے عمل کو مجموعی طور پر سست کرنے کا کوئی ایک ایسا طریقہ ثابت نہیں ہوا جسے یقینی علاج قرار دیا جاسکے۔
البتہ صحت مند زندگی کے لیے چند بنیادی عادات اہم ہیں، جن میں تمباکو نوشی سے اجتناب، باقاعدہ ورزش، متوازن غذا، مناسب نیند اور بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور ذیابیطس جیسے مسائل کی بروقت تشخیص اور دیکھ بھال شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق بحیرہ روم طرز کی متوازن غذا، جسمانی سرگرمی اور مناسب نیند طویل مدت میں دل، دماغ اور میٹابولک صحت برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
تحقیق کے نتائج سے یہ امید ضرور پیدا ہوئی ہے کہ مستقبل میں ڈی این اے کے حیاتیاتی اشاریوں کی مدد سے عمر بڑھنے کے عمل کو بہتر طور پر سمجھنے اور صحت مند زندگی کی مدت بڑھانے کے نئے طریقے سامنے آسکتے ہیں۔ تاہم ابھی اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔


