اسلام آباد: وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان پر بیرونی قرض کا حجم 98.2 ارب امریکی ڈالرز کے مساوی ہے۔
پاکستان کے ملکی قرضے میں 684 ارب روپے کی کمی ریکارڈ، اگست 2026 تک ملکی قرضہ 58.8 ٹریلین روپے رہ گیا، جبکہ بیرونی قرضہ 98.2 ارب ڈالر ہے۔ یہ انکشاف سیکرٹری خزانہ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ میں کیا۔
سیکرٹری خزانہ امداد اللّٰہ بوسال نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اگست 2026 تک پاکستان کا ملکی قرضہ کم ہو کر 58.8 ٹریلین روپے رہ گیا ہے، جبکہ جون 2026 کے مقابلے میں ملکی قرضوں میں 684 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
سیکرٹری خزانہ کے مطابق اگست 2026 تک پاکستان کا بیرونی قرضہ 98.2 ارب ڈالر رہا۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک کی مالی ضروریات قابلِ انتظام ہیں اور حکومت قرضوں کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ان کی ادائیگی کی مدت میں اضافہ کر رہی ہے، تاکہ فوری مالی ذمہ داریوں اور ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
امداد اللّٰہ بوسال نے بتایا کہ پاکستان کی مجموعی مالیاتی ضروریات جی ڈی پی کے تقریباً 20 فیصد کے برابر ہیں، تاہم مالیاتی نظم و ضبط اور قرضوں کے مؤثر انتظام کے باعث بھاری قرضوں کے باوجود ملک کی مالی ضروریات مستحکم ہیں۔
سیکرٹری خزانہ نے کمیٹی کو مزید آگاہ کیا کہ وفاقی مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے 6.86 ٹریلین روپے کے اضافی قرضے حاصل کیے گئے، جبکہ وفاقی مالیاتی خسارے کی مجموعی فنانسنگ کا 86 فیصد حصہ ملکی قرضوں کے ذریعے پورا کیا گیا۔
انہوں نے بریفنگ میں واضح کیا کہ حکومت ملکی قرضوں کے انتظام، ادائیگیوں کی مدت میں توسیع اور مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، تاکہ مالی ضروریات کو پائیدار بنیادوں پر پورا کیا جا سکے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو دی گئی بریفنگ میں ملکی و بیرونی قرضوں کی موجودہ صورتحال، مالیاتی خسارے کی فنانسنگ اور حکومت کی قرضہ مینجمنٹ پالیسی سے متعلق اعداد و شمار پیش کیے گئے۔


