ہانگ کانگ : امریکا میں ڈیموکریٹس کی مڈٹرم انتخابات میں تاریخی کامیابی کے بعد ٹیک کمپنیوں کے شیئرز میں شدید مندی دیکھی گئی۔ جس کے بعد سرمایہ کار اے آئی بوم کے مستقبل پر پریشان ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق 05 نومبر 2026 کو دنیا بھر کی اسٹاک ایکسچینجز میں عموی طور پر تیزی رہی اور تیل کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ آئی، لیکن اے آئی سے منسلک کمپنیاں دباؤ میں آ گئیں۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ نئی ڈیموکریٹک کانگریس ڈیٹا سینٹر منصوبوں اور بگ ٹیک کی جانچ پڑتال سخت کر دے گی۔
سیکسو مارکیٹس کی چارُو چنانا نے کہا کہ یہ ووٹ اے آئی کے از سر نو جائزے کو تیز کر رہا ہے۔ اس وقت زیادہ نگرانی، ڈیٹا سینٹر پابندیاں اور سرمایہ خرچ میں غیر یقینی جیسے بڑے خطرات سامنے ہیں۔تاہم یہ مکمل طور پر اے آئی مخالف ایجنڈا نہیں ہے، کیونکہ امریکا کو چین کے مقابلے میں اپنی برتری برقرار رکھنی ہے۔
ایشیائی مارکیٹس کی صورتحال چپ ساز کمپنیاں بری طرح متاثر ہوئیں، جنوبی کوریا میں ایس کے ہائنکس 7 فیصد سے زیادہ، سام سنگ 5.5 فیصد گر گیا۔ ٹوکیو میں کیوکسزیا 13 فیصد، ایڈونٹسٹ 14.7 فیصد، ٹوکیو ایلیکٹرون 9 فیصد اور سافٹ بینک جیسی کمپنیوں کے حصص میں 6.8 فیصد کمی آئی ۔ اسی طرح امریکی نیس ڈیک میں مستقبل کے سودوں میں 1 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی۔
جبکہ سیول 5 فیصد سے زیادہ اور تائپے 3 فیصد سے زیادہ گر گیا، ٹوکیو 1.8 فیصد نیچے رہا۔ اس کے برعکس ہانگ کانگ 3.7 فیصد بڑھ کر 24,796 پر بند ہوا، جس میں علی بابا، جے ڈی ڈاٹ کوم اور ٹینسنیٹ نے اچھا نتیجہ دیا۔ شنگھائی، سڈنی، سنگاپور اور ممبئی میں بھی تیزی رہی۔ لندن، پیرس اور فرینکفرٹ میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔
امریکی انتخابات کے بعد تیل کی قیمتیں 8 فیصد سے زیادہ گر چکی ہیں۔ سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ صدر ٹرمپ ایران جنگ ختم کرنے کی کوشش کریں گے، جو مہنگائی کی بڑی وجہ بنی تھی۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا کہ ریپبلکن کی شکست کی وجہ 8 ماہ سے جاری یہ غیر مقبول جنگ ہے۔


