فرانسیسی بینک پر سائبر حملہ: ہیکرز 13 کروڑ ڈالر سے زائد رقم لے اڑے

پیرس: فرانس کے معروف بینک کریڈٹ میوچل آرکیا پر بڑے سائبر حملے کا انکشاف ہوا ہے، جس میں ہیکرز نے مبینہ طور پر بینک کے اپنے اکاؤنٹس سے تقریباً 118 ملین یورو (132 ملین ڈالر سے زائد) کی رقم غیر قانونی طور پر منتقل کردی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ سائبر حملہ 4 نومبر کو منظرعام پر آیا، جس کے بعد 5 نومبر کو بھی اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آئیں۔ واقعے نے یورپی بینکاری نظام کی سائبر سکیورٹی کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کردیے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہیکرز نے عام صارفین کے بینک اکاؤنٹس کو براہ راست نشانہ بنانے کے بجائے بینک کے اپنے کارپوریٹ اکاؤنٹس سے رقوم منتقل کیں۔ بینک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صارفین کی جمع شدہ رقم اور ذاتی معلومات محفوظ ہیں۔

ہیکرز کی بینک کے نظام تک رسائی

جرائم اور بدعنوانی کی تحقیقات کرنے والے ادارے او سی سی آر پی کی رپورٹ کے مطابق ہیکرز نے ایک تھرڈ پارٹی سروس فراہم کرنے والے ادارے کے پلیٹ فارم کے ذریعے بینک کے نظام تک رسائی حاصل کی۔

اس کے بعد حملہ آوروں نے بینک کے اپنے اکاؤنٹس سے مختلف دوسرے بینکوں میں رقم منتقل کی۔

رپورٹ کے مطابق چوری کی گئی رقم کا ایک حصہ مختلف کرپٹو کرنسی پلیٹ فارمز کے ذریعے منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔

بینک نے حملے کو بیرونی عناصر کی جانب سے کیا گیا ایک پیچیدہ سائبر حملہ قرار دیا ہے، تاہم اس نے حملے کے مکمل طریقہ کار یا ذمہ دار افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی۔

کتنے کروڑ ڈالر کی رقم چوری ہوئی؟

ابتدائی رپورٹس میں چوری ہونے والی رقم تقریباً 100 ملین یورو بتائی گئی، جبکہ بعد کی تحقیقاتی رپورٹوں میں اس کا تخمینہ 118 ملین یورو یعنی تقریباً 132.4 ملین ڈالر لگایا گیا۔

بینک نے چوری کی حتمی رقم کی تصدیق نہیں کی، البتہ اس نے کہا ہے کہ میڈیا میں رپورٹ ہونے والی رقم کا مجموعی حجم حقیقت کے قریب ہے۔

بینک کے مطابق چوری کی گئی رقم کا کچھ حصہ روک لیا گیا ہے، جبکہ باقی رقم کی واپسی کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات محفوظ

سائبر حملے کے بعد سب سے اہم سوال یہ تھا کہ کیا بینک میں رقم رکھنے والے عام صارفین بھی متاثر ہوئے ہیں؟

بینک انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ہیکرز نے صارفین کے انفرادی اکاؤنٹس کو نشانہ نہیں بنایا اور نہ ہی صارفین کا ذاتی ڈیٹا متاثر ہوا ہے۔

حملے کے بعد احتیاطی تدبیر کے طور پر بینک نے کچھ مالی لین دین عارضی طور پر روک دیا تھا، جس کی وجہ سے بعض صارفین کی رقم کی منتقلی میں تاخیر ہوئی۔

تاہم سکیورٹی اقدامات کے بعد بینک کی بیشتر سرگرمیاں معمول پر بحال ہوگئیں۔

تحقیقات شروع

فرانس کے پراسیکیوٹر آفس نے اس واقعے کی باضابطہ تحقیقات شروع کردی ہیں۔

حکام کے مطابق یہ معاملہ منظم گروہ کی جانب سے کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا پروسیسنگ سسٹم پر حملے سے متعلق ہے۔

بینک بھی پولیس، عدالتی حکام اور متعلقہ نگران اداروں کے ساتھ مل کر سائبر حملے کی وجوہات اور اس کے مکمل طریقہ کار کا پتا لگانے میں مصروف ہے۔

صارفین کو فراڈ سے خبردار کردیا

حملے کے بعد بینک نے اپنے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ وہ جعلی کالز، مشکوک پیغامات اور فشنگ لنکس سے محتاط رہیں۔

بینک نے خاص طور پر ہدایت کی ہے کہ کسی بھی نامعلوم شخص کو اپنا پاس ورڈ، بینک کارڈ کی تفصیلات یا موبائل پر موصول ہونے والے ایس ایم ایس تصدیقی کوڈز فراہم نہ کریں۔

سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق بڑے بینکنگ حملوں کے بعد جعل ساز اکثر صارفین کو نشانہ بنانے کے لیے جعلی پیغامات اور فون کالز کا سہارا لیتے ہیں۔

امریکی بینکوں کے سکیورٹی نظام کی جانچ

ادھر امریکا میں بھی بینکاری نظام کی سائبر سکیورٹی کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق گزشتہ ہفتے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس پر ہونے والے مبینہ 6.3 ارب ڈالر کے بڑے سائبر حملے کے بعد امریکی فیڈرل ریزرو اور آفس آف دی کمپٹرولر آف دی کرنسی کے حکام نے مختلف بینکوں سے رابطے کیے۔

حکام نے بینکوں سے پوچھا کہ آیا ان کے نظام میں کوئی غیر معمولی سرگرمی یا خدمات میں رکاوٹ سامنے آئی ہے۔

امریکی بینکوں نے بھی اپنے سکیورٹی نظام کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے تاکہ کرپٹو مارکیٹ میں ہونے والے سائبر حملوں کے اثرات روایتی بینکاری نظام تک پہنچنے سے روکے جاسکیں۔

تاہم اس حوالے سے کسی امریکی بینک کے ہیک ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

فرانس کے بینک پر حملے اور امریکا میں بینکنگ سکیورٹی کے جائزے نے ایک بار پھر واضح کردیا ہے کہ جدید ڈیجیٹل دور میں بڑے مالیاتی ادارے بھی سائبر حملوں سے محفوظ نہیں۔