واشنگٹن / تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اہم جزیرے قشم پر امریکی فوجی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایرانی فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے امکانات موجود ہیں۔
فلوریڈا کے شہر ویسٹ پام بیچ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے ان حملوں کو محدود کارروائی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے ایک نیا طیارہ شکن دفاعی نظام تیار کیا تھا، جسے امریکی فوج نے چند منٹ میں تباہ کر دیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے محدود حملے کیے اور ایرانی فضائی دفاعی تنصیب کو تقریباً پانچ سے پندرہ منٹ میں ناکارہ بنا دیا۔
قشم پر دو میزائل حملے
امریکی صدر کا یہ بیان ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے قشم جزیرے کے علاقے سوزا میں دو میزائل حملوں کی اطلاعات کے بعد سامنے آیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق جزیرے پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ ابتدائی اطلاعات میں دو میزائل گرنے کی بات سامنے آئی۔ تاہم حملوں سے ہونے والے نقصان اور ممکنہ جانی نقصان کی سرکاری سطح پر مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔
قشم جزیرہ آبنائے ہرمز میں واقع ہے، جو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی فوجی کارروائی کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں اور سمندری تجارت پر پڑ سکتے ہیں۔
ایران کا امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
دوسری جانب ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے نے ایرانی فوج کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے قشم جزیرے کے اوپر ایک امریکی ایم کیو -9 ریپر ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا۔
تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی اور امریکی حکام نے بھی ڈرون تباہ ہونے کی تصدیق نہیں کی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا بیان
قشم جزیرے پر دھماکوں کی اطلاعات کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ مجموعی صورت حال نسبتاً پُرسکون ہے۔
سینٹرل کمانڈ کے ایک اہلکار نے الجزیرہ کو بتایا کہ امریکی حکام ان اطلاعات سے آگاہ ہیں، تاہم اس حوالے سے مزید تبصرہ نہیں کیا گیا۔
ایرانی جوہری پروگرام کی معلومات پر 2 کروڑ ڈالر انعام
اسی دوران امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات فراہم کرنے والوں کو 2 کروڑ ڈالر تک انعام اور ممکنہ طور پر محفوظ مقام پر منتقلی کی سہولت دی جا سکتی ہے۔
اس پیشکش میں ایران کی جوہری تنصیبات، آلات، متعلقہ اہلکاروں اور سائنسی شعبے سے وابستہ افراد کے بارے میں معلومات شامل ہیں۔
ٹرمپ کا مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ
فوجی کارروائیوں کی تصدیق کے ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت کا دعویٰ بھی کیا۔
ٹرمپ کے مطابق امریکا ایرانی نمائندوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور ان کے بقول ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔
تاہم انہوں نے مذاکرات کی تفصیلات یا کسی ممکنہ معاہدے کی شرائط واضح نہیں کیں۔
ادھر قطر بھی امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود سفارتی سطح پر مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں۔
موجودہ صورت حال میں ایک جانب محدود امریکی فوجی کارروائیوں کی اطلاعات ہیں تو دوسری جانب دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ ایسے میں آبنائے ہرمز اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورت حال پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔


