امریکی گلوکار میکلمور کو فلسطین کے حق میں آواز اٹھانا مہنگا پڑ گیا: 9 مقامات پر کنسرٹ بکنگ مسترد

واشنگٹن: فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنے والے امریکی ریپر اور گلوکار میکلمور نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے 9 کنسرٹ مقامات نے ان کے فری فلسطین ٹور کے لیے بکنگ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ گلوکار کے مطابق جیسے ہی ان مقامات کو معلوم ہوا کہ یہ شوز فلسطین کے لیے فنڈز جمع کرنے کی غرض سے منعقد کیے جا رہے ہیں، انہوں نے اچانک تاریخیں دینے سے معذرت کر لی۔

میکلمور نے انسٹاگرام پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ انہیں اس طرح کی صورت حال کا سامنا اپنے 20 سال سے زیادہ طویل میوزک کیریئر اور ٹورنگ کے دوران کبھی نہیں کرنا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی کنسرٹ مقامات کو معلوم ہوا کہ یہ فلسطین کے لیے امدادی شوز ہیں، پہلے سے زیرِ غور تاریخیں اچانک دستیاب نہ رہیں۔

میکلمور نے فلسطین کے لیے امدادی کنسرٹس پر مشتمل اس ٹور کا آغاز اس وقت کیا جب غزہ کے حوالے سے ان کے عوامی بیانات کے بعد انہیں ایڈ شیرن کے ٹور سے الگ کر دیا گیا تھا۔

گلوکار نے اپنے اس اقدام کے ذریعے فلسطینی عوام کے لیے حمایت کا اظہار کرنے اور امدادی سرگرمیوں کے لیے فنڈز جمع کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔

یورپ کے بعد امریکا کا رخ

میکلمور اپنے فری فلسطین ٹور کے سلسلے میں یورپ میں تین کنسرٹس مکمل کر چکے ہیں۔ تاہم امریکا میں 9 مقامات کی جانب سے بکنگ نہ ملنے کے ان کے دعوے کے بعد ٹور کے اگلے مرحلے کے انعقاد میں مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔

گلوکار کا کہنا ہے کہ وہ اب بڑے اسٹیڈیمز اور ارینا کے بجائے متبادل چھوٹے کنسرٹ مقامات تلاش کر رہے ہیں تاکہ امریکا میں بھی اپنی پرفارمنس جاری رکھ سکیں۔

میکلمور کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب فلسطین اور غزہ کے معاملے پر فنکاروں کے عوامی مؤقف، ثقافتی تقریبات اور میوزک انڈسٹری میں اظہارِ رائے کی آزادی پر بحث جاری ہے۔

تاہم 9 مقامات کی جانب سے بکنگ مسترد کیے جانے کی وجوہات کے بارے میں گلوکار کے دعوے کے علاوہ متعلقہ مقامات کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔