نو منتخب امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ ماضی میں کئی بار کینیڈا کو امریکی ریاست کہہ چکے ہیں۔ اب نئے سال پر کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹس ٹروڈو نے ٹرمپ کو دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ کینیڈا ایک آزاد ملک ہے۔
جب سےڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے، وہ کینیڈا اور ملککے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے بارے میں ایسی باتیں کررہیں جس پر خاصی بحث ہورہی ہے۔
امریکا میں صدارتی انتخابات کے بعد جسٹس ٹروڈو امریکا گئے اور ٹرمپ کے ساتھ ان کی فلوریڈا کی رہائش گاہ مار-اے-لاگو میں ڈنر کیا تو نو منتخب امریکی صدر ٹرمپ نے اس ڈنر کی تصویر شیئر کی۔ سوشل میڈیا پر تصویر شیئر کرتے ہوئے ٹرمپ نے ٹروڈو کو وزیر اعظم نہیں بلکہ کینیڈا کا گورنر کہا۔
یہی نہیں، ٹرمپ نے ڈنر کے دوران ٹروڈو کو مذاحیہ انداز میں پیشکش کی تھی کہ کینیڈا امریکا کی 51ویں ریاست بن جائے۔ تاہم یہ پیشکش مذاق میں دی گئی۔
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں کہا تھا کہ اگر کینیڈا امریکا کی 51 ویں ریاست بنا تو اس کی برآمدات پر ٹیکسوں میں 60 فیصد سے زیادہ کمی کی جائے گی، ان کے کاروبار کا حجم فوری طور پر دگنا ہو جائے گا، اور انہیں امریکا کا فوجی تحفظ بھی حاصل ہو جائے گا۔ جو دنیا کے کسی اور ملک کو نہیں ملے گا۔
ٹرمپ نے کہا تھا کہ کینیڈا کا وزیر اعظم نیشنل ہاکی لیگ کے لیجنڈ وین گریٹزکی کو ہونا چاہیے۔
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے سال نو کے موقق پر ٹرمپ کا ادھار چکایا ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کا نام لئے بغیر کینیڈا کے شہریوں کو نئے سال کی مبارکباد دی ہے۔
جسٹن ٹروڈو نے ایکس (سابق ٹویٹر) پر لکھا کہ ملک بھر میں الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے۔ چاہے آپ ملک میں ہوں یا بیرون ملک، 2025 آپ کے لیے نئے چیلنجز اور مواقع لے کر آئے گا۔ لیکن ایک بات ہم جانتے ہیں کہ یہ ملک مضبوط اور آزاد ہے اور ہم اسے اپنا گھر کہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ نیا سال مبارک ہو کینیڈا۔











