امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی مصنوعات پر ٹیرف کی شرح مزید 21 فیصد بڑھادی جب کہ درجنوں ممالک کو 90 روز کا ریلیف دے دیا۔
چین نے امریکا کی ٹیرف پالیسی کےخلاف بدھکے روزامریکی مصنوعات پرٹیرف کو 84فیصد کردیا ۔ جسپر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آگ بگولہ ہوگئے ہیں۔
امریکا نے چین کے درآمدی سامان پر محصولات کی شرح مزید 21 فیصد بڑھادی ہے۔ جس کے بعد چینی مصنوعات پر ٹیرف کی شرح 125 فیصد تک جاپہنچی ہے۔
دوسریجانب ٹرمپنے درجنوں ممالک کی مصنوعات پر لگائے گئے ٹیرف کی وصولی میں 90 روز کے لئے نرمی برتنے کا اعلانکردیا ہے۔
اپنے بیان میں امریکی صدر نےکہا ہے کہ 5 ممالک نے ٹیرف معاملے پر بات چیت کیلئے رابطہ کیا ہے۔ جوابی ٹیرف نہ لگانے والے کچھ ممالک پر اضافی ٹیرف 90 روز کےلیے معطل کردیاگیا ہے۔
ٹیرف کی معطلی کی خبرآتے ہی امریکی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی آ گئی۔ ڈاؤجونز انڈیکس میں 2083پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا۔
عالمی مارکیٹ میں سونے کی بڑھتی قیمت کم ہونا شروع ہو گئی ۔ جب کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل 1.23ڈالر فی بیرل مہنگا ہوکر 64 ڈالر کی سطح پر آگیا ہے۔


