چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے اختیارات اور اقدامات کے خلاف ہائی کورٹ کے پانچ ججوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔
ڈان نیوز کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس ثمن رفعت اور جسٹس اعجاز اسحق خان نے علیحدہ علیحدہ درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کیں۔
سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں میں اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان نے موقف اختیار کیا ہے کہ چیف جسٹس کو حاصل انتظامی اختیارات کو دیگر ججوں پر غالب آنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔چیف جسٹس ہائی کورٹ کوئی نیا بینچ تشکیل دینے یا مقدمات منتقل کرنے کا مجاز نہیں جب وہ کیس پہلے ہی کسی بینچ کو تفویض کیا جاچکا ہو ۔
درخواست گزار ججز نے موقف اختیار کیا ہےکہ ماسٹر آف دی روسٹر کے اصول کو سپریم کورٹ کے فیصلوں میں ختم کر دیا گیا ہے۔ بینچوں کی تشکیل، روسٹر ہائی کورٹ رولز اور مقدمات کی منتقلی سے متعلق فیصلہ سازی صرف چیف جسٹس کے اختیار میں نہیں ہو سکتی۔
درخواستوں میں یہ بھی کہا گیا کہ 3 فروری اور 15 جولائی کو جاری ہونے والے نوٹی فکیشنز کے ذریعے بنائی گئی انتظامی کمیٹیاں اور ان کے اقدامات قانونی بدنیتی پر مبنی، غیر قانونی اور کالعدم ہیں۔ عدالت عظمیی انہیں غیر قانونی قرار دے ۔










