اہم ترین

سکیورٹی کونسل : غزہ میں مستقل جنگ بندی کی قرارداد امریکا نے پھر ویٹو کر دی

امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں مستقل جنگ بندی سے متعلق قرارداد کو ایک مرتبہ پھر ویٹو کردیا۔

غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 15 میں سے 10 ارکان ممالک نے قراردادپیش کی تھی۔

قرارداد میں غزہ میں انسانی بحران پر تشویش اور بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی مذمت کی گئی تھی۔ اس میں بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے تحت ریاستوں پر عائد ذمہ داریوں کی بھی توثیق کی گئی تھی۔

قرارداد میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی معاہدے کا بھی مطالبہ شامل تھا۔اس کے علاوہ حماس اور دیگر گروپوں کے ہاتھوں تمام یرغمالیوں کی غیر مشروط رہائی کے علاوہ غزہ میں انسانی امداد کے داخلے اور تقسیم پر تمام اسرائیلی پابندیاں ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔

کونسل کے 5 مستقل اور 10 غیر مستقل ممبران میں سے امریکا کے علاوہ سب نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ جب کہ امریکا نے اسے ویٹو کردیا۔

سکیورٹی کونسل اجلاس کے دوران ووٹنگ سے پہلے امریکی نمائندہ مورگن آرٹاگس نے کہا کہ یہ قراداد حماس کی مذمت کرنے اور اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کو تسلیم کرنے میں ناکام رہی ہے، اور یہ حماس کو فائدہ پہنچانے والے جھوٹے بیانیے کو غلط طور پر جائز قرار دیتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کونسل کے ارکان ’ناقابل قبول الفاظ‘ کے حوالے سے امریکہ کے انتباہ کو نظرانداز کرتے رہے ہیں لہٰذا قرارداد کو ویٹو کر دیا گیا ہے۔

قرارداد کے متن میں غزہ میں بڑھتے ہوئے قحط اور بگڑتے ہوئے انسانی بحران کی خبروں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی مذمت کی گئی ہے اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں توسیع پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

دو سال سے غزہ میں جاری بربریت کے خونی کھیل کے دوران امریکا نے مسلسل چھٹی مرتبہ سکیورٹی کونسل کے مستقل رکن کے طور پر ویٹو کا حق استعمال کیا ہے۔

پاکستان