امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ملک میں رواں سال ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل انتخابی نظام پر حملے تیز کر دیے ہیں—اور اب انہوں نے ایسا بیان دے دیا ہے جس نے آئین، جمہوریت اور ریاستی اختیارات سب کو بحث کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ نے مطالبہ کیا ہے کہ انتخابات کرانے کی ذمہ داری بعض ریاستوں سے لے کر وفاقی حکومت کو دے دی جائے۔
ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ریپبلکن پارٹی کو چاہیے کہ وہ کم از کم 15 مقامات پر ووٹنگ کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے اور اسے “قومی سطح پر” منظم کیا جائے۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب نومبر کے مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو کانگریس میں اکثریت کھونے کا خطرہ لاحق ہے۔ سرویز کے مطابق صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی آئی ہے، جبکہ حالیہ مقامی انتخابات میں پارٹی کو مسلسل دھچکے لگے ہیں۔
صدر ٹرمپ ایک بار پھر 2020 کے صدارتی انتخابات کو چوری شدہ قرار دے رہے ہیں حالانکہ عدالتیں پہلے ہی ان انتخابات کی قانونی حیثیت کی تصدیق کر چکی ہیں۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ وفاقی حکومت انتخابات خود کیوں نہیں کراتی۔ ایک اور انٹرویو میں انہوں نے چند علاقوں کو انتہائی کرپٹ قرار دے دیا۔
دوسری جانب امریکی ماہرینِ قانون کی جانب سے ٹرمپ کےان بیانات کو آئین سے متصادم قرار دیا جارہا ہے۔
لائیولا لا اسکول کے پروفیسر جسٹن لیوٹ کے مطابق امریکی آئین واضح طور پر انتخابات کرانے کی ذمہ داری ریاستوں کو دیتا ہے، اور اس پر کوئی ابہام نہیں۔ ان کے بقول یہ نظام طاقت کی تقسیم اور بدعنوانی سے بچاؤ کے لیے بنایا گیا ہے۔
اس کے باوجود ٹرمپ اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر انتخابات درست اور بروقت نہ ہوئے تو کچھ اور ہو گا۔
اسی تناظر میں جارجیا میں ایف بی آئی کی جانب سے بیلٹ پیپرز اور انتخابی مواد کی ضبطی، اور 20 سے زائد ریاستوں میں ووٹنگ ریکارڈز کے لیے محکمہ انصاف کے مقدمات نے تنازع کو مزید بھڑکا دیا ہے۔
ناقدین کے مطابق یہ اقدامات آنے والے انتخابات کی ساکھ پر شکوک ڈالنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔










