اہم ترین

آبنائے ہرمز کا تحفظ: امریکا کا 7 ملکوں سے رابطہ، مدد نہ کی تو یاد رکھیں گے: ٹرمپ

واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ’پولیسنگ‘ اور سکیورٹی کے لیے تقریباً 7 ممالک سے بات چیت کی گئی ہے تاکہ اہم بحری راستے میں جہازرانی کو محفوظ بنایا جا سکے۔

فلوریڈا سے واشنگٹن واپسی کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے چین سے بھی پوچھا ہے کہ آیا وہ اس اقدام میں شامل ہونا چاہتا ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین تیل کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔

امریکی صدر نے یہ واضح نہیں کیا کہ چین کے علاوہ کن ممالک سے اس حوالے سے رابطہ کیا گیا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ نیٹو اور دیگر ممالک جو اس راستے سے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرتے ہیں انہیں بھی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔

ٹرمپ نے اتحادی ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے اس معاملے میں امریکہ کی مدد نہیں کی تو واشنگٹن اسے یاد رکھے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ ممالک کے پاس بارودی سرنگیں ہٹانے اور خصوصی کشتیوں کی صلاحیت موجود ہے جو اس آپریشن میں مدد دے سکتی ہیں۔

قبل ازیں صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا کہ انہیں امید ہے کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ آبنائے ہرمز میں جنگی بحری جہاز بھیجیں گے تاکہ ایران کی جانب سے کسی ممکنہ خطرے کو روکا جا سکے۔

پاکستان