اہم ترین

مشرقِ وسطیٰ جنگ: سوشل میڈیا پر اے آئی جعلی ویڈیوز کی بھرمار

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی جعلی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہی ہیں، جن میں امریکی فوجیوں کی ایران کے ہاتھوں گرفتاری، اسرائیلی شہروں کی تباہی اور امریکی سفارت خانوں پر حملوں جیسے مناظر دکھائے جا رہے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ ویڈیوز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر گردش کر رہی ہیں، جس کے مالک ٹیکنالوجی ارب پتی ایلون مسک ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جنگ کے دوران اے آئی سے تیار کردہ بصری مواد کی تعداد گزشتہ تنازعات کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے اور عام صارفین کے لیے حقیقت اور جعلی مواد میں فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

غلط معلومات کو روکنے کے لیے ایکس نے گزشتہ ہفتے نئی پالیسی کا اعلان کیا جس کے تحت اگر کوئی صارف جنگ سے متعلق اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز کو بغیر واضح وضاحت کے شیئر کرے گا تو اسے 90 دن کے لیے پلیٹ فارم کے ریونیو شیئرنگ پروگرام سے معطل کر دیا جائے گا، جبکہ بار بار خلاف ورزی پر مستقل پابندی بھی لگائی جا سکتی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی سینئر عہدیدار سارہ راجرز نے اس اقدام کو مثبت قرار دیا اور کہا کہ یہ ایکس کے کمیونٹی نوٹس سسٹم کے ساتھ مل کر غلط معلومات کے پھیلاؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

تاہم ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر جعلی مواد کا سیلاب اب بھی جاری ہے۔ انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹیجک ڈائیلاگ کے محقق جو بوڈنار کے مطابق ان کی نگرانی میں موجود فیڈز اب بھی جنگ سے متعلق اے آئی سے بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز سے بھری ہوئی ہیں۔

اے ایف پی کے فیکٹ چیکرز نے بھی دنیا بھر میں متعدد ایسی ویڈیوز کی نشاندہی کی ہے جن میں امریکی فوجیوں کو ایرانی پرچم کے سامنے گھٹنوں کے بل دکھایا گیا، تباہ حال امریکی سفارت خانے یا امریکی بحری بیڑے کی تباہی کے مناظر پیش کیے گئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر زیادہ ویوز اور آمدنی حاصل کرنے کی ترغیب بھی جعلی مواد کے پھیلاؤ میں اضافہ کر رہی ہے، کیونکہ کچھ پریمیم اکاؤنٹس زیادہ انگیجمنٹ حاصل کرنے کے لیے سنسنی خیز مگر گمراہ کن ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ایکس کی نئی پالیسی غلط معلومات کے خلاف ایک قدم ہے، تاہم اس پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں جنگ سے متعلق ڈیپ فیکس مواد کا پھیلاؤ روکنا مشکل ہوگا۔

پاکستان