بڑی آنت اور مقعد کے کینسر (کولوریکٹل کینسر) کو ماضی میں زیادہ عمر کے افراد کی بیماری سمجھا جاتا تھا، تاہم اب یہ نوجوان مرد و خواتین میں بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یہ مرض امریکا میں 50 سال سے کم عمر افراد میں کینسر سے ہونے والی اموات کی بڑی وجہ بن چکا ہے۔
خبر ایجنسی اے پی کے مطابق امریکا کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے لومبارڈی کینسر سینٹر سے وابستہ ڈاکٹر جان مارشل کے مطابق اب 20، 30 اور 40 سال کی عمر کے افراد میں بھی بڑی آنت کا کینسر سامنے آرہا ہے، جو ماضی میں نہایت کم دیکھا جاتا تھا۔ ان کے بقول یہ رجحان ماہرین کے لیے تشویشناک ہے۔
امریکن کینسر سوسائٹی کے مطابق رواں سال امریکا میں کولوریکٹل کینسر کے 1 لاکھ 58 ہزار سے زائد نئے کیسز تشخیص ہونے کا امکان ہے۔ مجموعی طور پر یہ پھیپھڑوں کے کینسر کے بعد کینسر سے ہونے والی اموات کی دوسری بڑی وجہ ہے اور اس سال 55 ہزار سے زائد اموات متوقع ہیں۔
اگرچہ 50 سال سے زائد عمر کے افراد میں اسکریننگ کے باعث اموات کی شرح میں کمی آئی ہے، لیکن کم عمر افراد میں 2000 کی دہائی کے آغاز سے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اندازے کے مطابق رواں سال 50 سال سے کم عمر کے تقریباً 3890 افراد اس بیماری سے جان کی بازی ہار سکتے ہیں۔
خطرے کے عوامل میں موٹاپا، جسمانی سرگرمی کی کمی، سرخ یا پراسیس شدہ گوشت کا زیادہ استعمال، پھلوں اور سبزیوں کی کمی، سگریٹ نوشی، شراب نوشی، آنتوں کی سوزش کی بیماری اور خاندانی تاریخ شامل ہیں۔
ماہرین صحت متوازن غذا، زیادہ پھل، سبزیاں اور اناج کے استعمال اور گوشت کم کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ حالیہ تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ورزش کا باقاعدہ پروگرام کینسر کے مریضوں میں بقا کی شرح بہتر بنا سکتا ہے اور بیماری کے دوبارہ حملے کے خطرے کو کم کر سکتا ہے۔
علامات میں پاخانے میں خون، مسلسل قبض یا اسہال، پاخانے کی ساخت میں تبدیلی، بلاوجہ وزن میں کمی، پیٹ میں درد یا مروڑ شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی علامات کو ہرگز نظرانداز نہ کیا جائے اور فوری طبی معائنہ کرایا جائے۔
طبی رہنما اصولوں کے مطابق عام افراد کو 45 سال کی عمر سے اسکریننگ شروع کر دینی چاہیے، جبکہ زیادہ خطرے والے افراد کو ڈاکٹر کے مشورے سے اس سے بھی پہلے ٹیسٹ کرانے چاہئیں۔ اسکریننگ کے طریقوں میں سالانہ اسٹول ٹیسٹ، ہر 10 سال بعد کولونوسکوپی یا نیا بلڈ ٹیسٹ شامل ہیں۔
ماہرین ابھی تک اس اضافے کی حتمی وجہ معلوم نہیں کر سکے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ نوجوانوں کے آنتوں کے بیکٹیریا (مائیکرو بایوم) میں تبدیلی اس کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ مزید تحقیق جاری ہے تاکہ اس رجحان کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔










