اہم ترین

خبردار! پیشاب روکنے کی عادت سے ہوسکتی ہیں 4 خطرناک بیماریاں

آج کی تیز رفتار زندگی میں ہم اکثر اپنے جسم کے اہم اشاروں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ دفتر کی مصروفیات، اسکول یا کالج کی کلاس، لمبا سفر یا قریب واش روم نہ ہونا ، ایسی کئی صورتحال میں لوگ پیشاب کو روک لیتے ہیں۔ بعض اوقات ہم جان بوجھ کر بھی اسے ٹال دیتے ہیں، مگر یہ عادت آہستہ آہستہ صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ہمارا جسم وقت پر پیشاب کرنے کا واضح سگنل دیتا ہے۔ اگر ان اشاروں کو مسلسل نظرانداز کیا جائے تو یہ کڈنی، مثانے اور پورے یورینری سسٹم کو متاثر کر سکتا ہے۔

کڈنی مسلسل خون کو صاف کر کے پیشاب بناتی رہتی ہے۔ جب پیشاب کو دیر تک روکا جاتا ہے تو مثانے میں دباؤ بڑھ جاتا ہے، اور یہ دباؤ واپس کڈنی کی طرف اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اس سے کڈنی پر اضافی بوجھ پڑتا ہے اور وقت کے ساتھ اس کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔ پیشاب کے ذریعے جسم سے زہریلے مادے، بیکٹیریا اور اضافی نمکیات خارج ہوتے ہیں۔ پیشاب روکنے سے یہ نقصان دہ اجزاء جسم میں جمع رہتے ہیں، جس سے کڈنی کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔

زیادہ دیر تک پیشاب روکنے سے کئی بیماریاں جنم لے سکتی ہیں:

پیشاب کی نالی میں انفیکشن

پیشاب روکنے سے بیکٹیریا مثانے میں بڑھنے لگتے ہیں جس سے انفیکشن ہو سکتا ہے۔ اس کی علامات میں جلن، بار بار پیشاب کی خواہش، بدبو اور پیٹ یا کمر کا درد شامل ہیں۔

پتھری

کم پانی پینا اور پیشاب روکنا پیشاب کو گاڑھا بنا دیتا ہے، جس سے معدنیات جمع ہو کر پتھری بنا سکتے ہیں۔ یہ شدید درد اور پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔

مثانے کی کمزوری

مسلسل پیشاب روکنے سے مثانے کے عضلات کمزور ہو سکتے ہیں، جس سے پیشاب پر کنٹرول میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔

بیمار افراد کے لیے زیادہ خطرہ

پروسٹیٹ کے مریض، ذیابیطس کے شکار افراد اور کڈنی کے مریضوں کو پیشاب ہرگز نہیں روکنا چاہیے کیونکہ ان میں پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ جسم کے قدرتی اشاروں کو سنجیدگی سے لیا جائے، مناسب مقدار میں پانی پیا جائے اور پیشاب کو غیر ضروری طور پر نہ روکا جائے۔

نوٹ: یہ معلومات طبی تحقیق اور ماہرین کی رائے پر مبنی ہیں۔ کسی بھی طبی مسئلے کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

پاکستان