اہم ترین

وزن پرقابو پائیں اور ڈیمنشیا کا خطرہ گھٹائیں: تحقیق

ایک نئی سائنسی تحقیق کے مطابق موٹاپا دماغی بیماری ڈیمنشیا کی دوسری سبسے قسم ویسکولر ڈیمنشیا کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔

معروف سائنسی جریدے دی جرنل آف کلینیکل اینڈو کرائنولوجی اینڈ میٹابولزم میں شائع تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ جسمانی وزن صرف اتفاقی طور پر نہیں بلکہ براہِ راست ویسکیولر ڈیمنشیا کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے۔

ماہرین نے جدید تحقیقاتی طریقہ مینڈیلیئن رینڈمائزیشن استعمال کیا، جس میں جینیاتی معلومات کی مدد سے یہ جانچا جاتا ہے کہ کوئی چیز واقعی بیماری کا سبب بنتی ہے یا نہیں۔

تحقیق کے مطابق زیادہ باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) رکھنے والے افراد میں ویسکولر ڈیمنشیا کا خطرہ زیادہ پایا گیا

اس تعلق میں ہائی بلڈ پریشر ایک اہم درمیانی وجہ ثابت ہوا۔ سسٹولک بلڈ پریشر تقریباً 18 فیصد اور ڈایاسٹولک بلڈ پریشر تقریباً 25 فیصد خطرے کی وضاحت کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق موٹاپا براہِ راست بلڈ پریشر بڑھاتا ہے، اور بلند فشارِ خون دماغ کو نقصان پہنچا کر ڈیمنشیا کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ ڈاکٹر رتھ فریکے شمٹ کے مطابق موٹاپا اور ہائی بلڈ پریشر دونوں ایسے عوامل ہیں جن پر قابو پایا جا سکتا ہے، اور یہی بات انہیں ڈیمنشیا سے بچاؤ کے لیے انتہائی اہم بناتی ہے۔

تحقیق میں شامل نہ ہونے والے دماغی صحت کے ماہرین نے بھی کہا کہ یہ نتائج اس بات کو مضبوط کرتے ہیں کہ دل کی صحت ہی دراصل دماغ کی صحت ہے۔

یہ تحقیق صرف یورپی نسل کے افراد پر کی گئی۔ جس میں بی ایم آئی وزن کا عمومی پیمانہ قرار دیا گیا، یہ چربی اور پٹھوں میں فرق نہیں کرتا۔

ماہرین کہتے ہیں کہ کچھ کیسز میں ڈیمنشیا کی اقسام آپس میں ملی جلی بھی ہو سکتی ہیں۔ لیکن اس کے نتائج صحتِ عامہ کے لیے بہت اہم ہیں۔

تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ وزن کو قابو میں رکھنا، بلڈ پریشر کو کنٹرول اورصحت مند طرزِ زندگی اپنانا نہ صرف دل کی بیماریوں بلکہ ڈیمنشیا سے بچاؤ میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان