اہم ترین

اے آئی کا باقاعدہ استعمال ڈپریشن بڑھ سکتا ہے: نئی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجادی

جدید تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ روزانہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال سے افسردگی، اضطراب اور چڑچڑاپن کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

معروف جریدے جاما نیٹ ورک اوپن میں شائع ہونے والے مطالعے میں تقریباً 21 ہزار امریکی بالغ افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ روزانہ اے آئی استعمال کرنے والے افراد میں کم از کم درمیانے درجے کے ڈپریشن کے امکانات 30 فیصد زیادہ تھے۔

تحقیق میں خاص طور پر یہ بات سامنے آئی کہ یہ تعلق ذاتی استعمال کے لیے اے آئی استعمال کرنے والوں میں واضح تھا، جبکہ کام یا تعلیمی استعمال کے دوران یہ اثر کم تھا۔ عمر کے لحاظ سے 25 سے 64 سال کے گروپ میں یہ اثر سب سے مضبوط دیکھا گیا، جب کہ 18 سے 24 اور 65 سال سے زائد گروپ میں اتنی واضح علامات نہیں آئیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی اکثر لوگوں کی سماجی تعاملات اور حقیقی تعلقات کو کم کر دیتا ہے، جس سے تنہائی، بے مقصدیت اور ذہنی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اے آئی کی مسلسل مدد سے لوگ اپنی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتوں پر کم انحصار کرتے ہیں، جس سے ذہنی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔

ماہرین نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر اے آئی کو صحیح، محدود اور انسانی نگرانی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ ذہنی صحت کے لیے فائدہ مند بھی ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، اے آئی چیٹ بوٹس ان افراد کے لیے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں جو کسی وجہ سے ٹاک تھراپی تک رسائی نہیں رکھتے۔

تحقیق کے مصنفین نے مزید کہا کہ مزید مطالعات اور طویل مدتی تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ آیا اے آئی استعمال سے ذہنی صحت متاثر ہو رہی ہے یا افسردگی والے افراد زیادہ اے آئی استعمال کرتے ہیں۔

یہ تحقیق ایک اہم انتباہ ہے کہ اے آئی کے بڑھتے استعمال کے ساتھ ذہنی صحت پر ممکنہ اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، اور صارفین کو بہت سوچ سمجھ کر اور متوازن انداز میں ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان