اہم ترین

دنیا میں ہر چار میں سے ایک شخص معدے کی سستی کا شکار، مگر لاعلم

کیا آپ نے کبھی محسوس کیا کہ کھانا کھانے کے گھنٹوں بعد بھی ایسا لگتا ہے جیسے غذا پتھر بن کر پیٹ میں پڑی ہو؟ یا چند نوالوں کے بعد ہی معدہ بھر جاتا ہو، متلی یا درد شروع ہو جاتا ہو؟ اگر ہاں، تو ممکن ہے آپ ایک ایسی بیماری کا شکار ہوں جسے اکثر لوگ جانتے ہی نہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر چار میں سے ایک شخص میں معدے کی ایک بیماری کی علامات پائی جاتی ہیں، جس میں معدہ خوراک کو معمول کے مطابق آگے منتقل نہیں کر پاتا۔ اس کیفیت میں معدہ سست پڑ جاتا ہے اور ہاضمہ شدید متاثر ہوتا ہے۔

اس بیماری میں مبتلا افراد اکثر شکایت کرتے ہیں کہ تھوڑا سا کھانے سے ہی پیٹ بھر جاتا ہے، متلی رہتی ہے، بعض اوقات الٹی ہو جاتی ہے اور پیٹ میں مستقل درد یا بے چینی محسوس ہوتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ علامات عام معدے کے مسائل سے ملتی جلتی ہوتی ہیں، اس لیے زیادہ تر لوگ اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ابتدا میں ڈاکٹروں کو السر، سوزش یا آنتوں میں رکاوٹ جیسے مسائل کو خارج کرنا پڑتا ہے۔ جب تمام ٹیسٹ نارمل آ جائیں اور اس کے باوجود مریض کی تکلیف برقرار رہے تو اس بیماری کا شبہ مضبوط ہو جاتا ہے۔

زیادہ تر کیسز میں اس بیماری کی کوئی واضح وجہ سامنے نہیں آتی، لیکن بعض اوقات ذیابیطس اس کی بڑی وجہ بنتی ہے۔ مسلسل بلند شوگر لیول اعصاب کو نقصان پہنچاتا ہے، خاص طور پر اُس اعصاب کو جو معدے کو سکڑنے اور پھیلنے کے سگنلز دیتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض وائرل انفیکشن بھی معدے کے اعصابی نظام کو اس طرح متاثر کر دیتے ہیں کہ مریض کبھی مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہو پاتا۔

تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس بیماری میں پیٹ درد نہایت عام ہے اور زیادہ تر مریض اس کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ کئی افراد میں درد اس قدر شدید ہوتا ہے کہ روزمرہ زندگی متاثر ہو جاتی ہے اور ایمرجنسی روم تک جانا پڑتا ہے۔

گزشتہ کئی برسوں سے ماہرین اس بیماری پر گہری تحقیق کر رہے ہیں اور اب وہ معدے کی دیوار تک کے خلیات کا مطالعہ کر رہے ہیں تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ اعصابی اور سوزشی تبدیلیاں کس طرح ہاضمے کو مفلوج کر دیتی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اب علاج صرف دواؤں تک محدود نہیں رہا۔ ماہرین ایک ایسے طریقہ علاج پر بھی کام کر رہے ہیں جس میں مریض کو ذہنی دباؤ کم کرنے، اعصاب کو پرسکون کرنے اور کھانے کے خوف پر قابو پانے کی تربیت دی جاتی ہے، کیونکہ اس بیماری میں کئی افراد کھانے سے گھبرانے لگتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ سادہ عادات اپنا کر علامات میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے، جیسے تھوڑا تھوڑا کھانا، چکنائی اور فائبر کم کرنا، خوراک اچھی طرح چبا کر کھانا، پانی زیادہ پینا، کھانے کے بعد ہلکی واک کرنا اور سافٹ ڈرنکس یا لیٹنے سے پرہیز کرنا۔

اگر آپ یا آپ کے اردگرد کوئی شخص طویل عرصے سے ان علامات کا شکار ہے تو اسے معمولی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہ کریں، کیونکہ بروقت تشخیص اور درست طرزِ زندگی اس بیماری کو قابو میں لا سکتی ہے۔

پاکستان