اہم ترین

اقوام متحدہ نے ٹی ٹی پی سے متعلق پاکستانی مؤقف کی حمایت کردی

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی 37ویں رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان شدت پسند تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنتا جا رہا ہے، جہاں سے پاکستان پر حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کی جا رہی ہے۔

سلامتی کونسل کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی وسطی اور جنوبی ایشیا کے لیے سنگین تشویش کا باعث ہے۔ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں تشدد کی نئی لہر دیکھی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے پاکستان میں حملوں میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں سرحدی علاقوں میں فوجی جھڑپیں اور علاقائی تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا۔ رپورٹ کے مطابق داعش خراسان کے خلاف مسلسل انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے باوجود تنظیم بیرونی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت اور ارادہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔

رپورٹ میں افغان عبوری حکام کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا گیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر کوئی دہشت گرد گروہ موجود نہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق کسی بھی رکن ملک نے اس مؤقف کی حمایت نہیں کی۔

مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ افغان عبوری حکام نے داعش خراسان کے خلاف کارروائیاں کیں اور بعض گروہوں کی سرگرمیوں کو محدود کیا، تاہم ٹی ٹی پی کو نسبتاً زیادہ آزادی اور سہولت حاصل رہی، جس کے باعث پاکستان کے خلاف اس کے حملوں اور علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کے خلاف پاکستان کی کارروائیاں تنظیم کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہو رہی ہیں، تاہم خطے میں امن و استحکام کے لیے مؤثر اور مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔

پاکستان