ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں واقع قشم جزیرہ پر سنے جانے والے زور دار دھماکوں کی آوازیں دراصل فضائی دفاعی نظام کی کارروائی کا نتیجہ تھیں، نہ کہ کسی حملے یا نقصان کا۔
صوبہ ہرمزگان کے مقامی حکام کا کہنا ہے کہ یہ آوازیں چھوٹے اور جاسوس ڈرونز کے خلاف فضائی دفاعی نظام کی کارروائی کے دوران سنائی دیں۔ حکام نے واضح کیا کہ جزیرے پر کسی قسم کا دھماکہ یا جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔
یہ بیان ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا جن میں اس اہم اسٹریٹجک جزیرے پر دھماکوں کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ ایرانی حکام نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے صورتحال کو مکمل طور پر کنٹرول میں قرار دیا۔
اگرچہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی موجود ہے، تاہم حالیہ ہفتوں میں ایرانی فضائی دفاعی نظام متعدد بار ڈرونز کو نشانہ بنا چکا ہے، جن میں دارالحکومت تہران کے اوپر کی پروازیں بھی شامل ہیں۔











