اہم ترین

اے آئی کا بےتحاشا استعمال: انسانوں میں برین فرائی کی نئی ذہنی کیفیت سامنے آنے لگی

نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کا زیادہ استعمال انسانوں میں ایک نئی قسم کی ذہنی تھکن پیدا کر رہا ہے، جسے ماہرین نے اے آئی برین فرائی کا نام دیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق اے آئی کے اثرات پر کی گئی تحقیق میں بوسٹن کنسلٹنگ گروپ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی ٹولز کے حد سے زیادہ استعمال یا نگرانی سے لوگوں کی ذہنی صلاحیتوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جدید اے آئی سسٹمز، خصوصاً ایسے ایجنٹس جو خودکار طریقے سے کمپیوٹر ٹاسک انجام دیتے ہیں، صارفین کو ایک نئی ذمہ داری میں ڈال رہے ہیں جہاں انہیں خود کام کرنے کے بجائے “ڈیجیٹل ورکرز” کو مسلسل مانیٹر کرنا پڑتا ہے۔

اے آئی اسٹارٹ اپ کے شریک بانی بین وِگلر کا کہنا ہے کہ یہ ایک نئی قسم کا ذہنی بوجھ ہے، جہاں آپ کو ان ماڈلز کی مسلسل نگرانی کرنا پڑتی ہے۔

تحقیق کے مطابق خاص طور پر سافٹ ویئر ڈیولپرز اس مسئلے سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، کیونکہ اے آئی کی مدد سے تیار کیے گئے کوڈ کا بغور جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کے لکھے گئے کوڈ میں سیکیورٹی خامیوں یا تکنیکی غلطیوں کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب اینتھروپک جیسے ادارے جدید ٹولز متعارف کرا رہے ہیں، جن میں کلاؤڈ ٹولز شامل ہے، جو سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کو تیز بناتا ہے، مگر اس کے ساتھ نگرانی کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔

اس رجحان سے کچھ صارفین ذہنی دباؤ اور تھکن کا شکار ہو رہے ہیں، تاہم تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مجموعی طور پر اے آئی کے استعمال سے روایتی کاموں میں برن آؤٹ کی شرح میں کمی آئی ہے، خاص طور پر جب اے آئی دہرائے جانے والے کام سنبھال لیتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اے آئی کے استعمال میں توازن نہ رکھا گیا تو یہ طویل مدت میں انسانی کارکردگی اور ذہنی صحت دونوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس حوالے سے بوسٹن کنسلٹنگ گروپ نے اداروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ملازمین کے لیے اے آئی کے استعمال کی واضح حدود مقرر کریں اور خود دیکھ بھال کو فروغ دیں۔

پاکستان