اہم ترین

ایران امریکا امن معاہدے پر دستخط کی میزبانی پاکستان کرے گا، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ جمعے کے روز جنیوا میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے تاریخی امن معاہدے کی تقریب کی میزبانی پاکستان کرے گا، جسے انہوں نے عالمی امن اور سفارت کاری کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دنیا نے امن کا ایک تاریخی سنگِ میل عبور کیا ہے اور جنگ کی تاریک رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق ایران اور امریکا نے تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کر دیا ہے، جس پر پاکستانی قوم سمیت پوری عالمی برادری مبارکباد کی مستحق ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ صرف دو ممالک کے درمیان معاہدہ نہیں بلکہ امن، مکالمے اور سفارت کاری کی فتح ہے۔ انہوں نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف، صدر آصف علی زرداری، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور دیگر سیاسی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قومی یکجہتی نے اس کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

شہباز شریف نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایران کی قیادت اور مذاکراتی ٹیموں کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ فریقین نے انتہائی مشکل حالات میں صبر، تدبر اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے قطر کے امیر، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر اور چین کے صدر کے کردار کو بھی سراہا اور امن عمل میں ان کے تعاون کو قابلِ قدر قرار دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے جنگ کے شعلے بجھانے اور قیامِ امن کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے کامیابی سے نوازا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا نے دیکھا کہ امن کی کوششوں کو عظیم فتح نصیب ہوئی اور جنگ کے خطرات کم ہونا شروع ہو گئے۔

انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خصوصی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ امن کے قیام اور جنگ بندی کے لیے انہوں نے دن رات انتھک محنت کی۔ وزیراعظم کے مطابق مذاکرات کے دوران کئی مواقع ایسے آئے جب معاہدہ ناکام ہوتا دکھائی دیتا تھا، لیکن فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ہمت نہیں ہاری اور مسلسل کوششوں کے نتیجے میں مثبت پیش رفت ممکن ہوئی۔

وزیراعظم نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ انہوں نے مذاکراتی عمل اور رابطہ کاری میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے اثرات سے عالمی معیشت بری طرح متاثر ہوئی اور پاکستان کی معیشت پر بھی دباؤ پڑا، تاہم حکومت نے بروقت فیصلوں کے ذریعے عوام کو ممکنہ حد تک مہنگائی کے اثرات سے بچانے کی کوشش کی۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ امن معاہدے کے نتیجے میں عالمی معاشی استحکام آئے گا اور اس کے مثبت اثرات پاکستانی عوام تک بھی پہنچیں گے۔

پاکستان