پاکستان کے شمالی علاقے میں واقع دنیا کی سب سے خطرناک اونچے پہاڑ براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے حادثے میں جاں بحق ہونے والے معروف کوہ پیما نرمل پرجا اور ان کے تین ساتھیوں کی لاشیں کامیاب ریسکیو آپریشن کے بعد بیس کیمپ منتقل کر دی گئی ہیں۔
الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق انتہائی مشکل اور خطرناک حالات میں جاری ریکوری آپریشن کے دوران نرمل پرجا، چینی کوہ پیما ژونگ وانگ اور نیپالی کوہ پیماؤں نیما شیرپا اور کلو شیرپا کی لاشیں تلاش کر کے بیس کیمپ پہنچا دی گئی ہیں۔
نیپالی نژاد برطانوی کوہ پیما 43 سالہ نرمل پرجا کی قیادت میں 10 رکنی بین الاقوامی کوہ پیما ٹیم 30 جولائی کو براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کی زد میں آ گئی تھی، جس کے بعد ٹیم سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ نرمل پرجا کی کمپنی نے حادثے میں کسی کے زندہ بچنے کی تصدیق نہیں کی تھی۔
الپائن کلب کے مطابق تین کوہ پیما اب بھی لاپتا ہیں اور خراب موسمی حالات بہتر ہونے پر ان کی تلاش اور ریکوری کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
حادثے میں جاں بحق ہونے والے دیگر تین کوہ پیماؤں، جن میں ایک امریکی خاتون، ایک عمانی خاتون اور ایک نیپالی شہری شامل ہیں، کی لاشیں پہلے ہی پہاڑ سے نکال کر اسکردو منتقل کی جا چکی ہیں، جبکہ دو نیپالی اور ایک پاکستانی کوہ پیما کی لاشیں تاحال نہیں مل سکیں۔
کوہ پیمائی کی عالمی برادری میں اس سانحے پر شدید افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ نیپال کی نیشنل ماؤنٹین گائیڈ ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ اس حادثے میں تجربہ کار کوہ پیماؤں کی ایک نسل کو نقصان پہنچا ہے۔
براڈ پیک قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں واقع دنیا کا 12واں بلند ترین پہاڑ ہے، جس کی بلندی 8 ہزار میٹر سے زیادہ ہے اور اسے دنیا کی مشکل ترین چوٹیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔










