اہم ترین

رواں ماہ مکمل سورج گرہن، سائنسدانوں کی کائنات کے راز جاننے کی تیاریاں

سائنسدانوں نے 12 اگست کو اسپین میں نظر آنے والے مکمل سورج گرہن کو سورج کے پراسرار راز جاننے کا نادر موقع قرار دے دیا ہے۔ ماہرین اس موقع پر سورج کے مقناطیسی میدان، بیرونی ماحول اور خطرناک شمسی طوفانوں کا مطالعہ کریں گے۔

مکمل سورج گرہن کے دوران چاند سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ لے گا، جس سے سائنسدانوں کو سورج کی بیرونی تہہ یعنی کورونا کا تفصیلی مشاہدہ کرنے کا موقع ملے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ تہہ انتہائی گرم ہوتی ہے اور اس کا درجہ حرارت تقریباً 20 لاکھ ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے۔

سائنس کی تاریخ میں سورج گرہن کئی اہم دریافتوں کا ذریعہ رہے ہیں۔ 1919 میں برطانوی ماہرِ فلکیات آرتھر ایڈنگٹن نے مکمل سورج گرہن کے دوران مشاہدات کے ذریعے البرٹ آئن اسٹائن کے نظریہ اضافیت کی تصدیق میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

فرانس کے ماہرِ فلکیات ایلن ساچا برون کے مطابق سورج مسلسل مادّہ اور چارج شدہ ذرات خارج کرتا رہتا ہے، جبکہ بعض اوقات شدید شمسی طوفان پیدا ہوتے ہیں، جو زمین کے گرد موجود سیٹلائٹس، خلا بازوں اور مواصلاتی نظام کو متاثر کر سکتے ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق سورج کی سرگرمیاں تقریباً 11 سالہ سائیکل کے تحت بڑھتی اور کم ہوتی ہیں، اور 2024 میں سورج اپنے 25ویں شمسی چکر کے عروج پر پہنچا تھا۔

یورپی خلائی ادارہ (ای ایس اے) بھی اس سورج گرہن کا مشاہدہ کرے گا تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ شمسی طوفان کس طرح حرکت کرتے ہیں اور کیا مستقبل میں ان کی پیش گوئی بہتر انداز میں ممکن ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مکمل سورج گرہن نہ صرف سائنسی تحقیق کے لیے اہم ہیں بلکہ یہ انسان کو کائنات اور خلا کے نظام کو سمجھنے کی تحریک بھی دیتے ہیں۔

پاکستان