حال ہی میں کی گئی ایک وسیع طبی تحقیق نے دنیا بھر میں اس بحث کو جنم دے دیا ہے کہ کیا ازدواجی رشتہ کینسر جیسے مہلک مرض پر اثر انداز ہوتی ہے۔
مامی یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے 40 لاکھ سے زائد کینسر کے کیسز پر کی گئی اس اسٹڈی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ غیر شادی شدہ افراد میں کینسر ہونے کا امکان شادی شدہ افراد کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہوتا ہے۔
تحقیق کے اعداد و شمار انتہائی چونکا دینے والے ہیں۔ 2015 سے 2022 کے درمیان کیے گئے اس مطالعے کے مطابق، غیر شادی شدہ مردوں میں کینسر کا خطرہ 68 فیصد زیادہ پایا گیا، جبکہ خواتین میں یہ شرح حیران کن طور پر 85 فیصد تک دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فرق مردوں کے مقابلے خواتین میں زیادہ تشویشناک ہے۔ محققین نے واضح کیا ہے کہ خود شادی کینسر سے بچاؤ کی ڈھال نہیں ہے، بلکہ اصل فرق طرزِ زندگی اور سماجی عوامل کا ہے۔
کلینیکل سائیکالوجسٹ فرینک پینیڈو کے مطابق شادی شدہ افراد کا اپنے جیون ساتھی کے مشورے پر باقاعدگی سے طبی معائنہ کروانا، تمباکو نوشی سے دوری اور ذہنی تناؤ کا کم ہونا کینسر کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ وہ افراد جنہوں نے شادی نہیں کی، انہیں اپنی صحت کے حوالے سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ باقاعدگی سے اسکریننگ، صحت مند خوراک اور تناؤ سے پاک زندگی گزار کر اس خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایسے کینسر جن کی اسکریننگ کے پروگرام عام ہیں (جیسے بریسٹ اور پروسٹیٹ کینسر)، ان میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ افراد کے درمیان فرق کافی کم پایا گیا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وقت پر تشخیص ہی اصل کلید ہے۔


