اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کے دوران غیر قانونی انسانی اسمگلنگ، امیگریشن کنٹرول اور بیرون ملک پاکستانیوں کی نقل و حرکت سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے۔
اجلاس میں ڈی جی ایف آئی اے نے سال 2025 کے اعداد و شمار اور ادارے کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ غیر قانونی طور پر یورپ پہنچنے کے لیے دبئی، کمبوڈیا اور دیگر ممالک کو ٹرانزٹ روٹ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس اسٹڈی اور وزٹ ویزوں کا سہارا لے کر شہریوں کو مختلف ممالک منتقل کرتے ہیں، جہاں سے انہیں غیر قانونی راستوں کے ذریعے یورپ پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستانی شہری عموماً تھائی لینڈ کے وزٹ ویزے پر سفر کرتے ہیں اور بعد ازاں زمینی راستے سے کمبوڈیا میں داخل ہو جاتے ہیں۔ کمبوڈیا کی حکومت بھی متعدد پاکستانیوں کی گرفتاریوں کے بارے میں آگاہ کر چکی ہے۔ اس معاملے کا ذکر قومی اسمبلی میں بھی ہو چکا ہے اور اس حوالے سے ویڈیوز بھی منظر عام پر آ چکی ہیں۔
ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق گجرات اور منڈی بہاؤالدین جیسے علاقوں سے پہلی بار بیرون ملک جانے والے بعض افراد کو نہ منزل کے بارے میں مناسب معلومات ہوتی ہیں اور نہ ہی وہاں کے حالات سے آگاہی، جس کا فائدہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہ اٹھاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایف آئی اے مسلسل مختلف ممالک کے ویزا رجحانات اور پاکستانی پاسپورٹ کی ساکھ کا جائزہ لے رہی ہے اور ہر 15 روز بعد اس حوالے سے رپورٹ مرتب کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر مسافر کو سفر کی اجازت نہیں دی جاتی بلکہ تمام معاملات قواعد و ضوابط کے مطابق جانچے جاتے ہیں۔
بریفنگ کے دوران ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ ادارے کی مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں بیرون ملک سے پاکستانی شہریوں کی مجموعی ڈیپورٹیشن میں 60 فیصد تک کمی آئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعض مسافر آذربائیجان پہنچ کر اپنی واپسی کی ٹکٹ منسوخ کر دیتے ہیں، تاہم اب جدید نگرانی کے نظام کے ذریعے ایسی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی جا سکے گی۔
ایف آئی اے نے امیگریشن نظام کو جدید بنانے کے لیے ایڈوانس پیسنجر انفارمیشن (اے پی آئی) اور پی این آر ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے، ای گیٹس متعارف کرانے اور ایک نئی موبائل ایپلی کیشن تیار کرنے کا اعلان بھی کیا۔ اس ایپ کے ذریعے شہری گھر بیٹھے اپنی سفری تاریخ اور امیگریشن ریکارڈ تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔
ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق ادارے نے پرانے غیر ملکی سافٹ ویئر کی جگہ اپنا جدید امیگریشن سسٹم تیار کیا ہے، جسے نادرا اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے ڈیٹا بیس سے منسلک کیا گیا ہے۔ نئے نظام کا کنٹرول سیکشن 12 جون سے مکمل طور پر فعال ہو جائے گا، جس سے مسافروں کی نگرانی اور امیگریشن انتظامات مزید مؤثر بنائے جا سکیں گے۔


