ٹیلی کام نیٹ ورکس کی عالمی تنظیم جی ایس ایم اے نے ڈیجیٹل پاکستان 2030 وژن سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کردی، جس میں پاکستان میں ڈیجیٹل ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور جامع ڈیجیٹل شمولیت کے لیے اہم ترجیحات کا تعین کیا گیا ہے۔
رپورٹ جی ایس ایم اے کے ہیڈ آف ایشیا پیسفک جولین گورمن نے پیش کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پائیدار سرمایہ کاری، ڈیجیٹل اعتماد اور جامع معاشی ترقی کے لیے پیش رفت کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے مضبوط بنیادیں قائم کر لی ہیں، جبکہ اسپیکٹرم پالیسی میں اصلاحات سے سرمایہ کاری کے ماحول میں بہتری آئی ہے۔ جی ایس ایم اے نے زور دیا کہ 2030 تک قابلِ اعتماد ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے قیام اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے حکومت، صنعت اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان تعاون بڑھانا ہوگا۔
رپورٹ میں ڈیجیٹل ترقی کے لیے پانچ اہم اسٹریٹجک ترجیحات بھی تجویز کی گئی ہیں، جن میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری، ٹیکس اور ریگولیٹری اصلاحات، ڈیجیٹل مہارتوں کا فروغ، سستی رسائی اور محفوظ ڈیجیٹل خدمات کی فراہمی شامل ہیں۔
جی ایس ایم اے کے مطابق پاکستان میں خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ 2024 سے 2025 کے دوران خواتین میں موبائل انٹرنیٹ کے استعمال کی شرح 45 فیصد سے بڑھ کر 53 فیصد ہوگئی، جبکہ موبائل انٹرنیٹ استعمال میں صنفی فرق 25 فیصد سے کم ہو کر 8 فیصد رہ گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ موبائل شعبے نے 2025 میں 278 ارب روپے ٹیکس اور فیسوں کی مد میں ادا کیے، جو اس شعبے کی مجموعی آمدن کا تقریباً 40 فیصد بنتے ہیں۔ جی ایس ایم اے نے کہا کہ 5 جی نیٹ ورک کی توسیع کے لیے سرمایہ کاری کی گنجائش برقرار رکھنا ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان ڈیجیٹل معیشت کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز قومی پیداوار اور معاشی ترقی کے اہم محرک بن سکتی ہیں۔
تاہم جی ایس ایم اے نے نشاندہی کی کہ ڈیجیٹل ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ صرف نیٹ ورک کی دستیابی نہیں بلکہ لوگوں کی استطاعت، ڈیجیٹل مہارتوں اور جدید آلات تک رسائی بھی ہے۔
جولین گورمن نے کہا کہ خواتین کے لیے ڈیجیٹل خدمات تک رسائی میں معاشرتی عوامل اور اخراجات اہم رکاوٹیں ہیں۔ ان کے مطابق 28 فیصد خواتین اپنا ذاتی انٹرنیٹ فون نہ ہونے کی وجہ سے دوسروں کے موبائل فون پر انحصار کرتی ہیں۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ ڈیجیٹل پالیسی کا مقصد صرف کنکشن فراہم کرنا نہیں بلکہ عوام کو مؤثر، محفوظ اور سستی ڈیجیٹل سہولیات تک رسائی دینا ہونا چاہیے۔ جی ایس ایم اے کے مطابق پائیدار سرمایہ کاری، ڈیجیٹل اعتماد اور جامع ترقی ہی ڈیجیٹل پاکستان 2030 کی کامیابی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔










