پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمت میں سہولت کاری کے بعد اسلام آباد کو سفارتی، معاشی اور علاقائی سطح پر نئے مواقع نظر آ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کردار پاکستان کو خطے میں دوبارہ ایک اہم سفارتی فریق کے طور پر سامنے لا سکتا ہے، تاہم اصل فائدہ حاصل کرنے کے لیے عملی اقدامات ضروری ہوں گے۔
سوئٹزرلینڈ کے مقام برگن اسٹاک میں ہونے والی ملاقاتوں میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے کردار کو سراہا، جبکہ ایرانی قیادت نے بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے کے لیے اسلام آباد کی کوششوں کو اہم قرار دیا۔
پاکستان نے گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان بیک چینل رابطوں، مذاکراتی ماحول کی تیاری اور علاقائی ممالک کے ساتھ رابطہ کاری میں کردار ادا کیا۔ اسی عمل کے نتیجے میں 18 جون کو ایک ابتدائی امن فریم ورک سامنے آیا، جس کے بعد مزید مذاکرات جاری ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے سب سے بڑا ممکنہ فائدہ توانائی کے شعبے میں ہو سکتا ہے۔ اگر ایران پر پابندیاں نرم ہوتی ہیں تو ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ دوبارہ زیر غور آ سکتا ہے، جبکہ ایران کے ساتھ سرحدی تجارت میں بھی اضافہ ممکن ہے۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم ہونے سے توانائی کی عالمی ترسیل بہتر ہو سکتی ہے، جس کا اثر پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار رکھنے والے ملک پر پڑ سکتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف سفارتی کامیابی معاشی مسائل کا مکمل حل نہیں، بلکہ داخلی اصلاحات، برآمدات میں اضافہ اور سرمایہ کاری کے لیے بہتر ماحول بھی ضروری ہے۔
پاکستان پہلے بھی عالمی طاقتوں کے قریب آ کر معاشی سہولتیں حاصل کرتا رہا ہے، لیکن ماضی کے تجربات ظاہر کرتے ہیں کہ بیرونی حمایت مستقل معاشی تبدیلی نہیں لا سکتی جب تک بنیادی مسائل حل نہ کیے جائیں۔
علاقائی سطح پر بھی اسلام آباد کو فائدہ مل سکتا ہے۔ ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری، بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں تجارت کا فروغ اور خطے میں رابطہ کاری کے نئے امکانات پاکستان کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق پاکستان کا اثر و رسوخ محدود بھی ہے۔ اسلام آباد امریکہ، ایران، سعودی عرب، خلیجی ممالک اور دیگر علاقائی قوتوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا، کیونکہ کسی ایک فریق کے زیادہ قریب جانا سفارتی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
ایک اور اہم پہلو پاکستان کے اندرونی منظرنامے سے متعلق ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق حالیہ سفارتی سرگرمیوں سے سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کے عسکری ادارے کو عالمی سطح پر حاصل ہوا ہے، جبکہ اصل امتحان یہ ہوگا کہ ممکنہ معاشی فوائد عام شہریوں، خصوصاً بلوچستان جیسے پسماندہ علاقوں تک کس حد تک پہنچتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ۔ایران مفاہمت پاکستان کے لیے ایک موقع ضرور ہے، لیکن یہ موقع اسی وقت حقیقی کامیابی میں بدل سکتا ہے جب اسے تجارت، توانائی، سرمایہ کاری اور علاقائی استحکام میں تبدیل کیا جائ










