اہم ترین

منشیات کی خرید و فروخت کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال روکنا ہوگا: آصف زرداری

صدر مملکت آصف علی زرداری نے منشیات کے استعمال اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ منشیات کا مسئلہ پاکستان سمیت پوری دنیا کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے بدلتے ہوئے خطرات کے مطابق حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

صدر زرداری نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں روایتی منشیات کے ساتھ ساتھ خطرناک مصنوعی نشہ آور اشیاء بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ جرائم پیشہ عناصر جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور نئے مالیاتی ذرائع کے ذریعے اپنے نیٹ ورکس کو مضبوط بنا رہے ہیں۔

انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا اور موبائل ایپلی کیشنز کو بعض عناصر منشیات کے استعمال کو فروغ دینے اور اسے معمول کی چیز بنا کر پیش کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، خاص طور پر نوجوانوں کو ایسے گمراہ کن پیغامات سے متاثر کیا جا رہا ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ منشیات کا استعمال نہ آزادی کی علامت ہے اور نہ ہی جدیدیت کی، بلکہ یہ فرد، خاندان اور معاشرے کو نقصان پہنچانے والا خطرناک رجحان ہے۔ نشے کی لت تعلیمی، معاشی اور سماجی زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ صرف قانون نافذ کرنے والے اقدامات کافی نہیں، بلکہ روک تھام، آگاہی، تعلیم اور بحالی کے پروگراموں کو بھی مضبوط کرنا ہوگا۔ صدر نے کہا کہ منشیات کے عادی افراد علاج، مدد اور دوبارہ بہتر زندگی شروع کرنے کے مواقع کے مستحق ہیں۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں، اس لیے والدین، تعلیمی اداروں، میڈیا، مذہبی رہنماؤں، سول سوسائٹی اور ریاستی اداروں کو مل کر ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں نوجوان صحت مند سرگرمیوں، تعلیم اور مثبت مواقع کی طرف راغب ہوں۔

صدر نے منشیات کے خلاف جدوجہد کرنے والے قانون نافذ کرنے والے اداروں، طبی ماہرین، اساتذہ، مشیران اور سول سوسائٹی کے کردار کو بھی سراہا۔

انہوں نے کہا کہ اجتماعی کوششوں سے ہی ایک محفوظ، صحت مند اور منشیات سے پاک معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

پاکستان