اہم ترین

وزن کم کرنے کی دوا سے بینائی کو خطرہ: ماہرین کی تحقیق

دنیا بھر میں موٹاپے کو تمام بیماریوں کی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس موٹاپے کو روکنے کے لئے استعمال کی جانے والی دوا بھی انسانی صحت کے لئے مفید نہین خاص طور پر اس سے آنکھوں کی بیماری پیدا ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

برٹش جرنل آف اوپتھلمولوجی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق موٹاپا روکنے کے لئے تجویز کی جانے والی دوا استعمال کرنے والے افراد میں آنکھوں کے اعصابی عارضے اسکیمک آپٹک نیوروپیتھی (آئی او این) کا خطرہ دیگر اسی نوعیت کی ادویات کے مقابلے میں زیادہ ہو سکتا ہے۔ یہ خطرہ مردوں میں خواتین کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔

محققین نے امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے ایڈورس ایونٹ رپورٹنگ سسٹم کے 2017 سے 2024 تک کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا جس میں 3 کروڑ سے زائد مضر اثرات کی رپورٹس شامل تھیں۔ ان میں سے تقریباً 32 ہزار کیسز سیماگلوٹائیڈ پر مبنی ادویات سے متعلق تھے۔

تحقیق میں ماہرین نے ٹائپ ٹو ذیابیطس کے لیے تجویز کردہ دوا اوزیمپک اور رائیبیلسس جب کہ موٹاپے کےعلاج کے لیے انجیکشن ویگووی پر تحقیق کی۔

نتائج کے مطابق اگرچہ اوزیمپک کے استعمال سے متعلق کیسز زیادہ رپورٹ ہوئے، تاہم ویگووی کے استعمال سے آئی او این کا خطرہ اوزیمپک کے مقابلے میں تقریباً پانچ گنا زیادہ دیکھا گیا۔

ماہرین کے مطابق اس کی ممکنہ وجہ ویگووی میں سیماگلوٹائیڈ کی زیادہ مقدار ہو سکتی ہے، کیونکہ ویگووی میں خوراک 2.4 ملی گرام تک ہوتی ہے جبکہ اوزیمپک میں زیادہ سے زیادہ 2.0 ملی گرام ہوتی ہے۔

ماہر امراض چشم ڈاکٹر بینجمن برٹ کے مطابق زیادہ خوراک ممکنہ طور پر اس بیماری کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق صرف تعلق ظاہر کرتی ہے، براہِ راست وجہ ثابت نہیں کرتی۔ کیونکہ یہ ادویات استعمال کرنے والے زیادہ تر افراد پہلے ہی ذیابیطس، موٹاپے اور دل کی بیماری جیسے مسائل کا شکار ہوتے ہیں جو خود بھی آنکھوں کے اعصابی عارضوں کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔

ماہرین نے زور دیا ہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مزید جامع تحقیقات کی جائیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ آیا یہ ادویات واقعی آنکھوں کے اعصاب پر اثر انداز ہوتی ہیں یا اس کا تعلق مریضوں کے پہلے سے موجود طبی مسائل سے ہے۔

پاکستان