اہم ترین

شام میں مبینہ ہلاک داعش جنگجو کے خلاف فرانس کی عدالت میں مقدمہ

فرانس میں پہلی مرتبہ شدت پسند تنظیم داعش کے ہاتھوں یزیدی اقلیت کے خلاف مبینہ نسل کشی کے مقدمے کی سماعت شروع ہو گئی ہے، جس میں ایک فرانسیسی جنگجو پر نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق فرانسیسی شہری صابری عیسید ، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ 2018 میں مارا جا چکا ہے، کو پیرس کی عدالت میں عدم موجودگی میں مقدمے کا سامنا ہے۔

فرانسیسی استغاثہ کے مطابق صابری عیسید نے 2014 میں شام جا کر داعش میں شمولیت اختیار کی اور عراق کے علاقے سینجیر میں یزیدی مردوں کے قتل عام کے بعد اغوا کی جانے والی کئی یزیدی خواتین کو غلاموں کی منڈی سے خریدا، جنہیں مبینہ طور پر قید میں رکھ کر تشدد اور زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

سن 2014 میں داعش نے عراق اور شام کے بڑے علاقوں پر قبضہ کر کے نام نہاد خلافت قائم کی تھی اور اسی دوران ہزاروں یزیدی مردوں کو قتل جبکہ خواتین اور لڑکیوں کو اغوا کر کے جنسی غلامی کے لیے فروخت کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے تحقیقاتی اداروں نے ان جرائم کو نسل کشی قرار دیا ہے۔

اس مقدمے میں یزیدی برادری سے تعلق رکھنے والی تین خواتین فریق بن چکی ہیں، جن میں سے دو عدالت میں گواہی دیں گی۔

انسانی حقوق کے وکیل پیٹرک باؤڈیون کے مطابق ماضی میں کئی ایسے جنگجو سامنے آ چکے ہیں جنہیں مردہ سمجھا جا رہا تھا، اس لیے انصاف کے تقاضوں کے لیے اس مقدمے کا چلنا ضروری ہے۔

مقدمے کے دوران صابری عیسید کی اہلیہ بھی گواہی دے گی جو شام سے واپسی کے بعد فرانس میں قید ہے۔ سماعت جمعے تک جاری رہنے کی توقع ہے۔

عالمی سطح پر بھی یزیدیوں کے خلاف جرائم پر عدالتیں فیصلے دے چکی ہیں۔ 2021 میں جرمنی کی ایک عدالت نے پہلی بار ان جرائم کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے ایک عراقی شخص کو عمر قید کی سزا سنائی تھی، جبکہ حالیہ عرصے میں سوئیڈن اور بیلجئیم میں بھی اسی نوعیت کے مقدمات میں سزائیں دی جا چکی ہیں۔

امریکی حمایت یافتہ افواج نے 2019 میں داعش کی نام نہاد خلافت کا خاتمہ کر دیا تھا، تاہم تنظیم کے کچھ گروہ اب بھی شام کے صحرائی علاقوں میں سرگرم ہیں۔

پاکستان