ایران سے جاری جنگ کے چند ہی ہفتوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید سیاسی اور سفارتی مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ نہ تو جنگ کے واضح اہداف سامنے آسکے ہیں اور نہ ہی اس کا کوئی مؤثر اختتامی منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق ایک سینئر امریکی انسداد دہشت گردی عہدیدار نے احتجاجاً استعفیٰ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ایران امریکہ کے لیے فوری خطرہ نہیں، اور وہ اس جنگ کی حمایت نہیں کرسکتے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ایران کو شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم ایران نے ہتھیار ڈالنے یا پسپائی اختیار کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔
دوسری جانب ایران کی جوابی کارروائیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جبکہ خلیجی ممالک تک حملوں کے پھیلاؤ نے خطے میں کشیدگی بڑھا دی ہے۔
ادھر جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی سپلائی چین پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
امریکی صدر کو اس بات پر بھی تنقید کا سامنا ہے کہ انہوں نے جنگ میں شمولیت سے قبل کانگریس اور عالمی اتحادیوں سے مشاورت نہیں کی، جبکہ یورپی ممالک نے بھی براہ راست عسکری تعاون سے گریز کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں کوئی آسان حل موجود نہیں، اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی راستہ ہی واحد قابلِ عمل آپشن ہے، جس میں تمام فریقین کو کسی نہ کسی حد تک لچک دکھانا ہوگی۔









