بھارت میں نورا فتیحی کے گانے سرکے چنر کا تنازع سنگین ہوگیا ہے۔ کیونکہ اب اداکارہ کے خلاف ایک فتویٰ بھی جاری ہوگیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست اتر پردیش کے شہر علی گڑھ میں مسلم پرسنل دارالافتاء سے وابستہ مولانا افراہیم حسین نے نورا فتیحی کے خلاف فتویٰ جاری کیا ہے۔
فتوے میں کہا گیا ہے کہ سرکےچنر گانے کے بول اور مناظر فحش اور غیر اخلاقی ہیں۔ یہ گانا ناصرف غیراسلامی بلکہ معاشرتی اقدار کے بھی خلاف ہے۔ اس طرح کا مواد نوجوان نسل پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے اور معاشرے میں بے راہ روی کو فروغ دیتا ہے۔
مفتی افراہیم کے مطابق ایسے گانوں میں کام کرنا یا انہیں فروغ دینا گناہ کبیرہ کے زمرے میں آتا ہے۔مسلمانوں کو اس قسم کے مواد سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔متعلقہ افراد اپنے عمل پر توبہ کریں اور آئندہ احتیاط برتیں ۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب فلم جنوبی بھارتی ریاستوں میں بولی جانے والی کنڑ زبان کی فلم ڈی: دی ڈیول کے ایک گانےکو ہندیمیں ڈب کیاگیا۔ گانا جاری کئے جانے کے بعد اس پر ہرطرف سے تنقید کی گئی۔ ناظرین اور مختلف حلقوں نے اس کے بول اور مناظر کو نامناسب قرار دیا، جس کے بعد معاملہ بھارتی حکومت نے بھی اس گانے پر پابندی عائد کر دی ۔
دوسری جانب بھارت میں حقوق نسواں کے کام کرنے والے سرکاری ادارے نیشنل کمیشن فار ویمن نے بھی اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اداکارہ نورا فتیحی، سنجے دت اور دیگر افراد کو طلب کیا ہے۔
اس سارے معاملے پر اداکارہ نورا فتیحی نے وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گانے کے متنازع ہندی بول سے لاعلم تھیں اور انہوں نے اس کی منظوری نہیں دی تھی۔











