امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی آپریشن ایپک فیوری آئندہ چار سے چھ ہفتوں میں اختتام پذیر ہو سکتی ہے، تاہم جنگ کے حتمی اہداف اور حکمت عملی کے حوالے سے اب بھی کئی سوالات موجود ہیں۔
امریکی انتظامیہ کی جانب سے جاری تازہ اندازوں کے مطابق اس آپریشن کے دورانیے کو پہلی بار کسی حد تک واضح کیا گیا ہے، جبکہ اس سے قبل 28 فروری کو جنگ کے آغاز کے بعد اس کی مدت یا دائرہ کار کے بارے میں کوئی واضح پالیسی سامنے نہیں آئی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ امریکا ایران کی فوجی صلاحیت کو نمایاں حد تک کمزور کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو نقصان پہنچایا گیا ہے اور اس کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔
تاہم امریکی صدر نے اس اہم سوال پر کوئی وضاحت نہیں دی کہ آیا امریکہ ایران کی سرزمین پر زمینی افواج تعینات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے یا نہیں۔ یہ معاملہ ماہرین اور عالمی مبصرین کے لیے بدستور تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ کے ممکنہ اختتام کا اندازہ سامنے آنے کے باوجود ابھی تک یہ واضح نہیں کہ امریکہ کس بنیاد پر کامیابی کا اعلان کرے گا، یا یہ کہ جنگ کس حد تک مختلف محاذوں پر لڑی جائے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ہفتے اس تنازع کے مستقبل کا تعین کرنے میں اہم ثابت ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اگر زمینی کارروائی یا سفارتی پیش رفت کے حوالے سے کوئی بڑی پیش رفت سامنے آتی ہے۔










