اہم ترین

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے اقوام متحدہ کی کوششیں، عالمی تعاون ناگزیر قرار

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہے، تاکہ عالمی توانائی کی ترسیل بحال ہو سکے۔

ایک انٹرویو میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اقوام متحدہ ماضی میں بھی ایسے اقدامات میں کامیاب کردار ادا کر چکی ہے، خاص طور پر 2022 میں روس اور یوکرین کے درمیان بحیرہ اسود کے راستے اناج کی برآمد کے معاہدے میں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ کوششوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں بھی اسی نوعیت کے حالات پیدا کرنا ہے، تاکہ تیل اور دیگر اشیاء کی محفوظ ترسیل ممکن ہو سکے۔

انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں اقوام متحدہ خلیجی ممالک اور یورپی کونسل کے ساتھ رابطے میں ہے، تاکہ کشیدگی کم کر کے بحری راستے کو بحال کیا جا سکے۔

گوتریس نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی بحرانوں کے حل کے لیے اجتماعی کوششیں ضروری ہیں اور صرف کسی ایک ملک کی قیادت میں کیے جانے والے اقدامات مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری ہر امن کوشش کا بنیادی حصہ ہونی چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اقوام متحدہ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ “بورڈ آف پیس” کے ساتھ تعاون کر رہی ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کثیرالجہتی حکمت عملی کو بھی اہم قرار دیا۔

گوتریس کے مطابق اس بورڈ کا ابتدائی مقصد غزہ کی تعمیرِ نو میں مدد فراہم کرنا تھا، جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری بھی حاصل ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایران پر حملوں کے بعد ان کا امریکی صدر سے براہِ راست کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے، کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد توانائی اسی راستے سے گزرتی ہے، اور اس کی بحالی عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم سمجھی جا رہی ہے۔

پاکستان