سوڈان میں اسپتال پر حملہ، 13 بچوں سمیت 64 افراد ہلاک

افریقی ملک سوڈان کے شورش زدہ علاقے دارفور میں ایک تدریسی اسپتال پر خوفناک حملے کے نتیجے میں کم از کم 64 افراد جاں بحق ہو گئے، جن میں 13 بچے بھی شامل ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس ایڈانوم گیبرئیسس کے مطابق یہ حملہ مشرقی دارفور کے دارالحکومت الدئین میں واقع الضعین ٹیچنگ اسپتال پر کیا گیا۔

ٹیڈروس ایڈانوم گیبرئیسس نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں مریضوں کے علاوہ دو خواتین نرسیں اور ایک مرد ڈاکٹر بھی شامل ہیں، جبکہ 89 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں 8 طبی اہلکار بھی شامل ہیں۔

حملے کے باعث اسپتال کے بچوں، زچگی اور ایمرجنسی وارڈز کو شدید نقصان پہنچا، جس کے بعد یہ طبی مرکز مکمل طور پر غیر فعال ہو گیا ہے اور شہر میں بنیادی طبی سہولیات معطل ہو گئی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق سوڈان میں جاری جنگ کے دوران طبی مراکز پر حملوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 2,000 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ تقریباً تین سال میں 213 حملوں میں 2,036 افراد کے مارے جانے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

واضح رہے کہ سوڈان میں فوج اور نیم فوجی فورس ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جنگ اپریل 2023 میں شروع ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور ایک کروڑ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق دارفور میں ہونے والے مظالم میں نسل کشی جیسی علامات پائی جاتی ہیں، جبکہ دونوں فریقین پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ سوڈان میں فوری طور پر جنگ بندی کی جائے اور شہریوں، طبی عملے اور امدادی کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔