امریکا میں شدید سردی کے بعد ریکارڈ توڑ گرمی، اچانک ہیٹ ویو پر ہائی الرٹ جاری

امریکا کے مغربی حصے میں آنے والی خطرناک ہیٹ ویو اب ملک کے وسطی علاقوں کی طرف بڑھ رہی ہے، جس کے باعث غیر معمولی گرمی نے کئی دہائیوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔

امریکی محکمہ موسمیات نیشنل ویدر سروس کے مطابق کیلیفورنیا سے کولوراڈو تک درجنوں شہروں میں مارچ کے مہینے کے بلند ترین درجہ حرارت ریکارڈ کیے گئے۔

ریاست کنساس کے شہر ٹوپیکا میں درجہ حرارت 95 فارن ہائیٹ (35 ڈگری سینٹی گریڈ) تک پہنچ گیا، جبکہ کنساس سٹی اور نارتھ پلیٹ میں 92 فارن ہائیٹ (33 ڈگری سینٹی گریڈ) ریکارڈ کیا گیا۔

اسی طرح ریاست وائیومنگ کے دارالحکومت چیئنے میں بھی مارچ کی تاریخ کا نیا ریکارڈ قائم ہوا جہاں درجہ حرارت 83 فارن ہائیٹ (28 ڈگری سینٹی گریڈ) تک پہنچ گیا۔

حیران کن طور پر شانوٹ میں صرف چار دنوں میں درجہ حرارت منفی 10 ڈگری سے بڑھ کر 32 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا، جو موسمی شدت کی واضح مثال ہے۔

مزید برآں فینکس میں رات کا درجہ حرارت بھی 21 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا، جو اس سال کے لیے غیر معمولی حد تک زیادہ ہے۔

کیلی فورنیا اور ایریزونا کی سرحدی صحرائی پٹی میں درجہ حرارت 44.4 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو امریکا میں مارچ کے مہینے کا نیا قومی ریکارڈ ہے۔

محکمہ موسمیات نے صحرائی علاقوں میں شدید گرمی کی وارننگ جاری کر دی ہے جبکہ نیبراسکا، کنساس اور اوکلاہوما میں جنگلاتی آگ کے خطرے کے پیش نظر “ریڈ فلیگ الرٹ” بھی جاری کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ غیر معمولی ہیٹ ویو دراصل موسمیاتی تبدیلی (گلوبل وارمنگ) کا نتیجہ ہے، جو فوسل فیول کے بڑھتے استعمال کے باعث شدت اختیار کر رہی ہے۔

شدید گرمی کے اثرات صرف انسانوں تک محدود نہیں بلکہ جنگلی حیات بھی متاثر ہو رہی ہے، جہاں موسمِ بہار کے آغاز سے قبل ہی پودوں اور درختوں میں تیزی سے نشوونما دیکھنے میں آ رہی ہے۔