امریکی ریاست نیو میکسیکو میں جیوری نے فیس بک، انسٹاگرام اور تھریڈز کی مالک کمپنی میٹا پلیٹ فارمز کو بچوں کے تحفظ میں ناکامی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے 375 ملین ڈالر جرمانہ عائد کر دیا۔ اگر اس رقم کو پاکستانی کرنسی میں تبدیل کیا جائے تو یہ تقریباً 104 سے 106 ارب روپے بنتی ہے ۔
اے ایف پی کے مطابق نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل راول ٹوریز کی جانب سے دائر مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ میٹا نے اپنے پلیٹ فارمز پر بچوں کی حفاظت سے متعلق گمراہ کن دعوے کیے اور بچوں کے استحصال سے متعلق معلومات کو چھپایا۔
جیوری نے فیصلہ دیا کہ کمپنی نے صارفین، خصوصاً بچوں، کے ساتھ غیر منصفانہ اور غیر اخلاقی کاروباری رویہ اپنایا اور ان کی کم عمری اور ناتجربہ کاری سے فائدہ اٹھایا۔ عدالت کے مطابق ہزاروں خلاف ورزیاں سامنے آئیں، جن کی بنیاد پر یہ بھاری جرمانہ عائد کیا گیا۔
میٹا نے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے اس کے خلاف اپیل کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ صارفین، خاص طور پر نوجوانوں، کو محفوظ رکھنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔
اٹارنی جنرل راول ٹوریز نے اس فیصلے کو تاریخی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بڑا ٹیکنالوجی اداروں کے لیے واضح پیغام ہے کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔
ماہرین کے مطابق مقدمے کا دوسرا مرحلہ مئی میں شروع ہوگا، جس میں عدالت یہ طے کرے گی کہ آیا میٹا کو عوامی فلاحی پروگراموں کے لیے مزید ادائیگیاں کرنا ہوں گی یا نہیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کے کئی ممالک بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی یا سخت قوانین پر غور کر رہے ہیں۔


