سویڈن میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ الزائمر کے جینیاتی خطرے کے حامل افراد میں زیادہ مقدار میں گوشت کا استعمال دماغی کمزوری اور ڈیمنشیا کے خطرے کو کم کر سکتا ہے۔
سویڈن کے کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ سے منسلک ماہرین نے 60 سال سے زائد عمر کے 2 ہزار سے زیادہ افراد کا طویل عرصے تک جائزہ لیا۔ جس کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ وہ افراد جن میں الزائمر کا سب سے بڑا جینیاتی خطرہ سمجھے جانے والے جین اے پی او ای 3/4 یا اے پی او ای 4/4 موجود ہو ۔ وہ اگر معمول سے زیادہ مقدار میں گوشت کھائیں تو ان میں ذہنی تنزلی کی رفتار سست اور ڈیمنشیا کا خطرہ کم ہوسکتا ہے ۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ جو افراد کم گوشت کھاتے تھے اور ان میں یہ جین موجود تھا، ان میں ڈیمنشیا کا خطرہ دگنا تک بڑھ گیا۔ اس کے برعکس زیادہ گوشت کھانے والوں میں ایسا اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔
ماہرین کے مطابق خاص طور پر غیر پراسیسڈ (قدرتی) گوشت کا استعمال بہتر نتائج سے منسلک پایا گیا، جبکہ پراسیسڈ گوشت کا زیادہ استعمال فائدہ مند نہیں سمجھا گیا۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس کی ممکنہ وجہ غذائی اجزاء، خاص طور پر وٹامن بی 12، اور خوراک کے جسم میں جذب ہونے کے طریقہ کار سے جڑی ہو سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی رائے دینا قبل از وقت ہے۔
ماہرین نے واضح کیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ گوشت ہی اس بہتری کی اصل وجہ ہے۔ دیگر عوامل جیسے طرزِ زندگی اور معاشی حالات بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
تحقیق سے یہ عندیہ ضرور ملتا ہے کہ مستقبل میں غذائی ہدایات ایک جیسی رکھنے کے بجائے جینیاتی بنیادوں پر مختلف ہو سکتی ہیں، اور خاص افراد کیلئے خوراک کے الگ اصول بنائے جا سکتے ہیں۔










