جرمنی کے شمالی ساحلوں کے قریب بحیرہ بالٹک کی تہہ میں دوسری جنگِ عظیم کا خطرناک اور زہریلا ورثہ ایک “ٹائم بم” کی صورت میں موجود ہے، جہاں لاکھوں ٹن پرانا اسلحہ زنگ کھا کر سمندری ماحول کو آلودہ کرنے لگا ہے۔
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق بحیرہ بالٹک کی تہہ میں نمکین پانی کی وجہ سے بم، راکٹ اور گولہ بارود کے خول تیزی سے خراب ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ٹی این ٹی جیسے مہلک کیمیکل سمندر میں خارج ہو رہے ہیں۔ حیران کن طور پر یہ زہریلے اثرات اب سمندری حیات تک پہنچ چکے ہیں اور مچھلیوں اور سیپ میں خطرناک مادوں کے آثار ملے ہیں۔
جرمنی کے شہر کیل سے ایک تحقیقاتی مشن روانہ کیا گیا ہے، جس میں سائنسدان جدید روبوٹس اور آلات کی مدد سے سمندر کی تہہ کا جائزہ لے رہے ہیں۔ یہ علاقہ دنیا کے آلودہ ترین سمندری علاقوں میں شمار ہونے لگا ہے جہاں تقریباً 16 لاکھ ٹن بارودی مواد بکھرا پڑا ہے۔
تحقیق کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ کئی ڈوبے ہوئے جنگی جہازوں میں بارود سے کہیں زیادہ مقدار میں ایندھن موجود ہے، جو کسی بھی وقت بڑے ماحولیاتی حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ خاص طور پر جرمن بحریہ کا ٹینکر فرانکن، جو 1945 میں تباہ ہوا تھا، آج بھی سینکڑوں ٹن ایندھن اپنے اندر لیے ایک خطرناک بم بنا ہوا ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگرچہ فوری طور پر انسانوں کے لیے خطرہ کم ہے، لیکن اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں یہ مسئلہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد اتحادی افواج نے بڑی مقدار میں اسلحہ جلدی سے ٹھکانے لگانے کے لیے سمندر میں پھینک دیا تھا، جس کے اثرات اب سامنے آ رہے ہیں۔ جرمنی نے صفائی کے لیے ابتدائی اقدامات شروع کیے ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عالمی مسئلے کے حل کے لیے بھاری فنڈنگ اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔









