ایران میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک خطرناک پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس نے مشرقِ وسطیٰ میں قائم امریکی تعلیمی اداروں کو ممکنہ ہدف بنانے کی دھمکی دے دی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا 30 مارچ کو دوپہر 12 بجے تک ایرانی جامعات پر ہونے والے حالیہ حملوں کی باضابطہ مذمت نہیں کرتا تو خطے میں موجود امریکی جامعات کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کا مؤقف ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ حملوں میں اس کے دو بڑے تعلیمی ادارے تباہ ہوئے ہیں۔ ایران ان حملوں کو اپنی خودمختاری اور تعلیمی نظام پر براہِ راست حملہ قرار دے رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ممکنہ کارروائی کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ میں امریکی جامعات سے وابستہ اساتذہ، طلبہ اور عملے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان اداروں سے کم از کم ایک کلومیٹر دور رہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں جانی نقصان کم سے کم ہو سکے۔
خلیجی ممالک میں کئی نمایاں امریکی تعلیمی اداروں کی شاخیں قائم ہیں، قطر میں ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی اور ابو ظہبی میں نیویارک یونیورسٹی شامل ہیں، جو اب ممکنہ خطرے کی زد میں آ سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ 28 فروری سے جاری کشیدگی کے دوران امریکہ اور اسرائیل کے حملوں نے ایران کی عسکری صلاحیت کو نقصان پہنچایا ہے، تاہم ایران بھی مسلسل جوابی کارروائیاں کر رہا ہے، جس سے خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ دھمکیاں عملی شکل اختیار کرتی ہیں تو نہ صرف تعلیمی ادارے بلکہ پورا خطہ ایک بڑے تصادم کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔











