کرکٹ کی بائبل کہلانے والے برطانوی جریدے وزڈن نے عالمی کرکٹ پر بھارتی گرفت اور سیاسی مداخلت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے موجودہ صورتحال کو آمریت زدہ قرار دے دیا ہے۔
وزڈن کرکٹرز المناک کے 163 ویں ایڈیشن میں ایڈیٹر لارنس بوتھ نے عالمی کرکٹ کی موجودہ حالت زار پر ایک چارج شیٹ پیش کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اب مکمل طور پر بھارتی اثر و رسوخ کے نیچے ہے، جہاں چیئرمین جے شاہ اور چیف ایگزیکٹو سنجوگ گپتا دونوں کا تعلق بھارت سے ہے۔
رپورٹ میں خاص طور پر جے شاہ کے سیاسی پس منظر کا ذکر کیا گیا ہے جو بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ کے صاحبزادے ہیں۔ وزڈن کے مطابق، بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) اب محض ایک کھیلوں کا ادارہ نہیں بلکہ بھارت کی حکمران جماعت ‘بی جے پی’ کا ایک ذیلی ونگ بن چکا ہے، جہاں کھیل کے فیصلوں پر سیاست حاوی ہے۔
لارنس بوتھ نے 2025 کے ایشیا کپ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ پاک بھارت کشیدگی نے کھیل کے میدان کو بھی متاثر کیا۔ انہوں نے بھارتی کپتان سوریا کمار یادو کی جانب سے پاکستان کے خلاف جیت کو مسلح افواج کے نام کرنے اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی متنازع ٹویٹ پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ مودی نے کرکٹ کی جیت کو ‘آپریشن سندور’ (ایک حالیہ سرحدی تصادم جس میں کئی جانیں گئیں) سے تشبیہ دیتے ہوئے اسے اسی مشن کا حصہ قرار دیا تھا۔
رپورٹ میں بنگلا دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کے کیس کا بھی تذکرہ کیا گیا، جنہیں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے ساتھ ایک ملین ڈالر کا معاہدہ ختم کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سفارتی تلخیوں کی وجہ سے بنگلہ دیشی حکومت نے اپنی ٹیم کو بھارت میں ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھیجنے سے انکار کر دیا، جس کے باعث بنگلہ دیش ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔
وزڈن نے افسوس کا اظہار کیا کہ بھارتی کرکٹ کے بڑے نام اس بڑھتی ہوئی سیاسی زہرناکی پر خاموش ہیں۔ یہ دعویٰ کرنا کہ کھیل اور سیاست الگ الگ ہیں، اب ایک مذاق بن چکا ہے کیونکہ کرکٹ اب عالمی سطح پر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کا ایک ہتھیار بنتی جا رہی ہے۔


