پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان صنعتی بحالی پیکیج پر پیش رفت

پاکستان اور انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان صنعتی شعبے کی بحالی کے لیے اہم تجاویز پر مذاکرات جاری ہیں، جن میں برآمدات کے فروغ اور کاروباری لاگت میں کمی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، آئی ایم ایف کی جانب سے متعدد تجاویز کی منظوری دیے جانے کا امکان ہے، جنہیں آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شامل کیا جائے گا۔ منظوری کی صورت میں ملک کی پہلی قومی صنعتی پالیسی کے نفاذ کا بھی منصوبہ زیر غور ہے۔

مذاکرات میں برآمد کنندگان کو ریلیف دینے کے لیے خام مال پر ٹیکسوں میں مزید کمی، درآمدی ان پٹس پر ودہولڈنگ ٹیکس مرحلہ وار کم کرنے، اور ایڈوانس انکم ٹیکس کے خاتمے کی تجاویز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایکسپورٹرز کے لیے سپر ٹیکس میں نمایاں کمی یا مکمل خاتمے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

کارپوریٹ انکم ٹیکس کو موجودہ 29 فیصد سے کم کر کے بتدریج 26 فیصد تک لانے کی تجویز بھی زیر بحث ہے، جبکہ برآمد کنندگان کو تیز رفتار ٹیکس ریفنڈز کی فراہمی پر بھی اتفاق پایا گیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024 میں بینکنگ سیکٹر کے علاوہ سپر ٹیکس کی وصولی 204.76 ارب روپے رہی، جبکہ برآمد کنندگان سے سیلز ٹیکس کی مد میں 1.3 ارب روپے اور مینوفیکچررز سے 93 ارب روپے حاصل کیے گئے۔

تجویز دی گئی ہے کہ آئندہ ٹیکس سال سے مینوفیکچررز پر سپر ٹیکس کا اطلاق فلیٹ سلیب کے بجائے اضافی آمدن پر کیا جائے، جبکہ آئندہ پانچ سال کے دوران سپر ٹیکس کی شرح کو نصف کرنے کا پلان بھی زیر غور ہے۔

سندھ میں برآمد کنندگان کے لیے انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس ختم کرنے اور فیڈرل بورڈ آٓف ریونیو (ایف بی آر) کے ریگولیٹری طریقہ کار کو سادہ بنانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ برآمد کنندگان کا آڈٹ ہر تین سال میں ایک بار کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔

ماہرین کے مطابق ان اقدامات سے صنعتی سرگرمیوں میں تیزی، برآمدات میں اضافہ اور کاروباری ماحول میں بہتری متوقع ہے، تاہم حتمی منظوری کا انحصار آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات پر ہوگا۔