غلط استعمال کا خدشہ: جی پی ٹی 5.4 سائبر لانچ لیکن رسائی صرف مصدقہ صارفین کو

مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنا جدید سائبر سیکیورٹی ماڈل محدود سطح پر جاری کرے گی، تاکہ اس کے ممکنہ غلط استعمال کو روکا جا سکے۔

کمپنی کے مطابق نیا ماڈل جی پی ٹی 5.4 سائبر صرف مخصوص اور تصدیق شدہ صارفین کو فراہم کیا جائے گا، جس میں ہزاروں سیکیورٹی ماہرین اور اہم سافٹ ویئر کے دفاعی ٹیمیں شامل ہیں۔

یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک اور اے آئی کمپنی اینتھروپک نے بھی اپنے ماڈل کلاؤڈ مائیتھوسکو محدود تعداد میں صارفین تک رسائی دی ہے، جس نے ہزاروں سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کر کے ماہرین کو حیران کر دیا۔

ماہرین کے مطابق جدید اے آئی ماڈلز کی یہ صلاحیت جہاں سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنا سکتی ہے، وہیں ہیکرز کے ہاتھوں میں جا کر خطرناک بھی ثابت ہو سکتی ہے، جس سے ایک “ڈیجیٹل ہتھیاروں کی دوڑ” کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ان ٹولز کو زیادہ سے زیادہ جائز صارفین تک پہنچانا ہے، جبکہ ایسے نظام بھی تیار کیے جا رہے ہیں جو قابلِ اعتماد صارفین کی شناخت کو یقینی بنائیں۔

دوسری جانب اینتھروپک کے ماڈل نے ایسے سافٹ ویئر بگز بھی دریافت کیے ہیں جو کئی برسوں سے پوشیدہ تھے، جس کے بعد مالیاتی شعبے سمیت مختلف اداروں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی مالیاتی حکام نے بھی اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات پر غور شروع کر دیا ہے، جبکہ کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ محدود رسائی کے ذریعے پہلے دفاعی نظام کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔