مصنوعی ذہانت کے نئے ایجنٹس جہاں صارفین کے لیے کام آسان بنا رہے ہیں، وہیں ماہرین نے ان کے بڑھتے ہوئے استعمال پر سنگین سیکیورٹی خدشات کا اظہار کر دیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق اوپن کلا جیسے جدید سسٹمز لاکھوں صارفین کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں، جو بڑے لینگویج ماڈلز جیسے چیٹ جی پی ٹیاور کلاوڈپر مبنی ایجنٹس بنا کر خودکار طور پر مختلف آن لائن کام انجام دیتے ہیں۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی ایک نئے خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ یزید اکاردریکا کہنا ہے کہ اب اے آئیصرف گفتگو تک محدود نہیں رہا بلکہ عملی اقدامات کر رہا ہے، جس سے خطرات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔
تحقیقی ٹیم نے ایجنڈس آف کیاس نامی مطالعے میں چھ اے آئیایجنٹس کا جائزہ لیا، جہاں انہوں نے خطرناک سرگرمیوں کی نشاندہی کی—جن میں ای میل ڈیلیٹ کرنا اور ذاتی معلومات شیئر کرنا شامل ہیں۔
سائبر سیکیورٹی ادارے چیک پوائنٹس نے خبردار کیا کہ ایجنٹس اکثر صارفین کی دی گئی حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں اور ان پر مکمل کنٹرول رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ مزید خدشات اس وقت بڑھ جاتے ہیں جب یہ ایجنٹس ای میل، کیلنڈر اور دیگر ذاتی اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرتے ہیں جو ہیکرز کے لیے آسان ہدف بن سکتے ہیں۔
پالو آلٹو نیٹ ورکس کی ماہر وینڈی وائٹ مورکے مطابق ہیکرز مستقبل میں سب سے پہلے انہی اے آئیایجنٹس کو نشانہ بنائیں گے تاکہ سسٹمز سے مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔
ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اسکلز یا اضافی فیچرز کے ذریعے بھی ہیکرز نقصان دہ کوڈ داخل کر سکتے ہیں، جس سے ڈیٹا چوری ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
پیٹر اسٹین برگرنے تسلیم کیا کہ یہ ٹیکنالوجی خطرات سے خالی نہیں، اور صارفین کو بنیادی سیکیورٹی سمجھنا ضروری ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق عام صارفین سے یہ توقع رکھنا غیر حقیقی ہے۔
ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ 2026 میں اے آئی ایجنٹس کے بڑھتے استعمال کے ساتھ ڈیٹا لیک اور سائبر حملوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے لیے فوری حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔



