غزہ میں اسرائیلی بربریت سے زندہ بچنے والے بچے آدم خور چوہوں کا شکار

جہاں دنیا کی نظریں جنگ بندی اور مذاکرات پر جمی ہیں، وہیں غزہ کے خیموں میں محصور خاندان ایک ایسے خوفناک ڈراؤنے خواب میں جی رہے ہیں جس کا تصور بھی محال ہے۔ یہ محاذ بمباری کا نہیں بلکہ بیماریوں اور موذی چوہوں کا ہے، جنہوں نے معصوم بچوں کو اپنی خوراک بنانا شروع کر دیا ہے۔

غزہ کی ایک ماں، سماح الدبلہ، اس رات کو کبھی نہیں بھول سکتیں جب ان کی تین سالہ بیٹی میاسین کی چیخوں نے انہیں جگا دیا۔ ہم نے دیکھا کہ ایک خرگوش جتنا بڑا چوہا خیمے میں بھاگ رہا تھا اور میاسین کا ہاتھ خون سے لت پت تھا، سماح نے سسکیاں بھرتے ہوئے بتایا۔ یہ صرف میاسین کی کہانی نہیں, غزہ کے ہزاروں بچے اب رات کو اس خوف سے نہیں سوتے کہ کہیں نیند میں ان پر یہ آدم خور چوہے حملہ نہ کر دیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ میں جمع ہونے والے لاکھوں ٹن ملبے اور تباہ شدہ سیوریج سسٹم نے چوہوں کی افزائش کے لیے ایک مثالی ماحول فراہم کر دیا ہے۔

ڈاکٹر ایمن ابو رحمہ کے مطابق، یہ چوہے اب اتنے جارح ہو چکے ہیں کہ ملبے تلے دبی انسانی لاشوں کو کھانے کے بعد اب زندوں پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔ شوگر (ذیابیطس) کے مریض اور بوڑھے سب سے زیادہ نشانے پر ہیں، کیونکہ حس کی کمی کے باعث انہیں کٹنے کا احساس تک نہیں ہوتا۔

امداد کی تڑپ: غزہ کی میونسپلٹی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے کیڑے مار ادویات اور زہر کی درآمد پر پابندی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ فلسطینیوں کے پاس نہ تو کھانا بچانے کے لیے محفوظ جگہ ہے اور نہ ہی ان موذی جانوروں سے بچنے کے لیے کوئی دوا۔