دنیا کے امیر ترین انسان ایلون مسک اور اے آئی کمپنی اوپن اے آئی کے درمیان امریکا میں بڑی عدالتی جنگ کا باقاعدہ آغاز ہونے جارہا ہے۔ کیس کی سماعت آئندہ ہفتے سے شروع ہوگی اس کے لئے جیوری کا انتخاب 24 اپریل کو ہوگا۔
سیم آلٹمین سمیت دیگر افراد نے 2015 میں اوپن اے آئی کو ایک غیر منافع بخش ادارے کے طور پر شروع کیا تھا۔ اس کا مقصد ایسی اے آئی ٹیکنالوجی بنانا تھا جو صرف بڑی کمپنیوں کے منافع کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے فائدے کے لیے ہو۔
ایلون مسک بھی اس منصوبے کے شریک بانیوں میں شامل تھے اور انہوں نے تقریباً 38 ملین ڈالر کی فنڈنگ دی۔ تاہم بعد میں وہ اس منصوبے سے الگ ہو گئے۔
وقت کے ساتھ اوپن اے آئی نے ایک کمرشل (منافع بخش) ماڈل اختیار کیا اور مائیکرو سافٹ سمیت بڑی کمپنیوں سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی۔ آج کمپنی کی مالیت تقریباً 852 ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔
مسک کا مؤقف ہے کہ اوپن اے آئی نے اپنے اصل وعدے سے انحراف کیا اور نان پرافٹ مشن کو چھوڑ کر منافع کمانا شروع کر دیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں اس معاملے میں دھوکہ دیا گیا۔
ایلون مسک اس معاملے کو عدالت میں لے آئے ہیں۔ انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ اوپن اے آئی کو دوبارہ غیر منافع بخش بنایا جائے، سیم آلٹمین کو عہدے سے ہٹایا جائے اور کمپنی کو مائیکروسافٹ سے الگ کیا جائے۔
دوسری جانب اوپن اے آئی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مقدمہ دراصل ایلون مسک کی طاقت اور کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ یہ سب شہرت پانے کی کوشش کے علاوہ کچھ نہیں ۔
اس مقدمے میں ستیہ ندیلا سمیت کئی اہم شخصیات کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جائیں گے۔
ماہرین کے مطابق اس کیس کا فیصلہ صرف ایک کمپنی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ طے کرے گا کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) انسانیت کے فائدے کے لیے استعمال ہوگی یا صرف بڑی کمپنیوں کے لیے منافع کا ذریعہ بنے گی۔


