اے آئی کمپنیوں کی امریکا اور یورپ میں قانون سازی روکنے کے لئےدولت کی برسات

اوپن اے آئی جیسی مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنیوں نے امریکا اور یورپ میں سخت قوانین سے بچنے کے لئے اربوں ڈالر سیاست دانوں پر لٹانے شروع کردیئے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق امریکا اور یورپ میں پالیسی سازوں پر اثر انداز ہونے کے لیے مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں نے لابنگ کا عمل تیز کردیا ہے تاکہ حکومتیں اے آئی کے لیے سخت قوانین بنانے کے عمل میں ان کا مفاد بھی ملحوظ خاطر رکھیں۔

یہ کمپنیاں نہ صرف حکومتی سطح پر بلکہ عوامی رائے پر بھی اثر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں، اور یہ مؤقف پیش کر رہی ہیں کہ مصنوعی ذہانت نوکریوں کے خاتمے یا خطرے کا باعث نہیں بلکہ معاشرے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔۔

اوپن اے آئی نے حال ہی میں ایک 13 صفحات پر مشتمل پالیسی دستاویز جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انٹیلیجنس ایج کے لیے نئی ٹیکس پالیسی اور سوشل سیفٹی نیٹ بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرہ سپر انٹیلی جنس سسٹمز کے اثرات برداشت کر سکے۔اسی دوران کمپنی نے ایک ٹیک ٹاک شو بھی خریدا تاکہ اپنی پبلک امیج اور بیانیہ مضبوط کر سکے۔

کمپنی کو حالیہ چند ماہ کے دوران صارفین کی جانب سے قانونی کیسز، نوجوانوں سے متعلق تحفظ کے خدشات اور چیٹ بوٹ کے غلط استعمال کے الزامات جیسے کئی چیلنجز کا سامنا بھی رہا ہے۔

ان مسائل کے بعد کمپنی نے عمر کی تصدیق جیسے نئے حفاظتی اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صرف امریکا میں 3500 سے زائد لابیسٹ اے آئی پالیسی پر کام کر رہے ہیں، جو مجموعی لابنگ فورس کا ایک چوتھائی ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ چند برسوں میں 170 فیصد بڑھی ہے۔

یورپ میں بھی صورتحال یہی ہے، جہاں ٹیک کمپنیوں کے لابنگ اخراجات 2021 کے بعد 55 فیصد بڑھ کر تقریباً 177 ملین ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دوڑ میں وہی کمپنیاں سب سے آگے ہیں جن کے پاس سب سے زیادہ سرمایہ ہے، جس میں میٹا، گوگل اور مائیکرو سافٹ شامل ہیں۔اینتھروپک جیسی نئی کمپنیاں بھی لابنگ کے کھیل میں شامل ہورہی ہیں تاہم اے آئی سیفٹی پر ان کی توجہ نسبتاً زیادہ ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال جمہوریت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ بڑی کمپنیاں اپنے وسائل کے ذریعے پالیسیوں کو اپنے حق میں موڑنے کی کوشش کر رہی ہیں۔یہ صورتحال تیل اور تمباکو انڈسٹری کی پرانی لابنگ مہمات جیسی ہے، مگر فرق یہ ہے کہ اے آئی کمپنیاں دنیا کی سب سے زیادہ دولت مند کمپنیاں ہیں۔

ماہرین کے مطابق اصل جنگ اب صرف ٹیکنالوجی کی نہیں بلکہ پالیسی، قانون اور مستقبل کے معاشی نظام کی بھی ہے۔