امریکی ایوان صدر وائٹ ہاؤس کی جانب سے دیئے گئے عشائیے کے دوران فائرنگ ہوئی ہے۔ واقعے مٰں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جب کہ حملہ آور کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاوس میں برسوں بعد صحافیوں کے اعزاز میں ڈنر کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ سمیت کئی اعلیٰ ترین امریکی حکام بھی وہاں موجود تھے۔
ٹرمپ ابھی خطاب کرنے ہی والے تھے کہ ایک اہلکار ان کے پاس ایک پرچی لیے پہنچا جس پر ساتھ بیٹھی خاتون شدید خوفزدہ اور حیران دکھائی دی، اس کے ساتھ ہی کچھ آوازیں سنائی دینے پر ہلچل مچ گئی اور صدر کو نکال لیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق جیسے ہی گولی چلنے کی آواز آئی، سیکرٹ سروس نے فوراً پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور تقریب میں شریک افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا۔ تیز رفتار اقدامات کے باعث کسی جانی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
حکام نے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے، حملہ آور کی شناخت کول تھامس ایلین کے نام سے ہوی ہے، جس کا تعلق کیلیفورنیا سے ہے اور عمر 31 سال ہے۔ جبکہ فائرنگ کے محرکات ابھی واضح نہیں ہو سکے۔
واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ صدر کو بھی صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور انہوں نے مکمل رپورٹ طلب کر لی ہے۔











